اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی احتجاجی سرگرمیوں اور ہڑتالوں کے باعث عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق ان احتجاجی کالز کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں رک جاتی ہیں، جس سے سب سے زیادہ نقصان متوسط اور مزدور طبقے کو پہنچ رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہڑتالوں اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے چھوٹے دکاندار، روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد اور چھوٹے کاروباری طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دکانوں کی بندش کے باعث نہ صرف آمدن متاثر ہوتی ہے بلکہ روزمرہ ضروری اشیاء کی دستیابی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔
مقامی لوگوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کے دوران پیدا ہونے والی بدامنی اور رکاوٹوں سے پورا معاشی نظام متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق خطے کے عوام امن، استحکام اور معاشی ترقی کے خواہاں ہیں تاکہ زندگی معمول کے مطابق چلتی رہے۔
شہریوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسے ماحول کے حق میں نہیں جو بدامنی یا انتشار کو فروغ دے۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر اور پاکستان کا رشتہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ جذباتی اور تاریخی بنیادوں پر قائم ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران شہریوں کے بنیادی حقوق اور روزگار کے مواقع متاثر نہیں ہونے چاہئیں، اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور پرامن راستہ اپنانا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔