اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اسرائیل نے امریکا سے مرکزی بن گوریون ائیرپورٹ پر موجود فوجی طیاروں کی تعداد کم کرنے اور بعض طیارے فوری طور پر منتقل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔
اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ فوجی سرگرمیوں کے باعث موسمِ گرما میں شہری فضائی آپریشنز متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب نے واشنگٹن کو پیغام دیا ہے کہ بن گوریون ائیرپورٹ پر امریکی ایندھن بردار اور دیگر فوجی طیاروں کی بڑی تعداد مسافر پروازوں کی روانگی اور آمد کے نظام پر دباؤ ڈال رہی ہے، جس سے فضائی ٹریفک کے انتظام میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا پہلے ہی ائیرپورٹ سے 28 ایندھن بردار طیارے دوسرے مقامات پر منتقل کر چکا ہے، تاہم اسرائیل نے مزید 20 فوجی طیاروں کی منتقلی کا مطالبہ بھی سامنے رکھ دیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران مسافروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، اس لیے ائیرپورٹ کی گنجائش کو زیادہ سے زیادہ شہری پروازوں کے لیے مختص کرنا ضروری ہے۔اسرائیل نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ بن گوریون ائیرپورٹ پر امریکی فوجی موجودگی کو محدود کیا جائے تاکہ تجارتی اور مسافر بردار پروازوں کی روانی برقرار رکھی جا سکے۔ حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں فوجی طیاروں کی بڑی تعداد شہری فضائی سرگرمیوں کے لیے چیلنج بن رہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر امریکی اور اسرائیلی حکام کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں اور طیاروں کی ممکنہ منتقلی سمیت مختلف انتظامی امور پر مشاورت کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ سکیورٹی ضروریات اور شہری فضائی آپریشنز کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔