اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز ) عراق نے تیل کی پیداوار بڑھانے کی اجازت نہ ملنے پر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کی دھمکی دے دی۔
عالمی توانائی کی منڈی میں نئی بے یقینی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔عراقی ذرائع کے مطابق بغداد نے حالیہ جنگ کے باعث ہونے والے معاشی نقصانات کے ازالے کے لیے خام تیل کی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کی تجویز پیش کی تھی، تاہم اوپیک کی جانب سے اس مطالبے کو قبول نہیں کیا گیا۔ تجویز مسترد ہونے کے بعد عراقی حکومت نے اوپیک کی رکنیت پر نظرثانی کا عندیہ دیتے ہوئے تنظیم سے الگ ہونے کی دھمکی دی ہے۔
عراقی خبر ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تیل کی پیداوار بڑھانے یا اوپیک سے علیحدگی کا حتمی فیصلہ آئندہ ماہ عراقی وزیرِاعظم کے متوقع دورۂ واشنگٹن کے بعد کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران مختلف سفارتی اور معاشی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد مستقبل کی حکمت عملی طے ہوگی۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے اگر وہ اوپیک سے علیحدگی اختیار کرتا ہے تو یہ عالمی تیل مارکیٹ اور تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے اوپیک کی پیداوار سے متعلق پالیسیوں اور عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں متحدہ عرب امارات نے بھی اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد عراق کی ممکنہ علیحدگی کو تنظیم کے لیے ایک اور اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔