اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کیوبیک میں یکم جولائی کو ہونے والے سالانہ موونگ ڈے سے صرف دو روز قبل بھی 3,100 سے زائد خاندان نئی رہائش کی تلاش میں ہیں، جبکہ رہائشی بحران مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
کیوبیک ہاؤسنگ سوسائٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ان خاندانوں میں سے 2,100 سے زائد کو حکومتی اداروں کی جانب سے فعال معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جس سے صوبے میں رہائشی بحران کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب گریٹر مونٹریال آبزرویٹری کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی ایک معاشی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی امریکا کے 43 بڑے میٹروپولیٹن علاقوں میں رہائش کی دستیابی کے لحاظ سے گریٹر مونٹریال 42ویں جبکہ کیوبیک سٹی 43ویں اور آخری نمبر پر ہے۔
رپورٹ کے مطابق مونٹریال میں 2025 کے دوران رہائشی یونٹس کی خالی شرح 2.9 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 3.1 فیصد ہو گئی ہے۔ اگرچہ یہ شرح نظریاتی طور پر متوازن مارکیٹ کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم خالی رہائشی یونٹس کا کرایہ عام خاندانوں کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہے۔
آبزرویٹری کے مطابق گریٹر مونٹریال میں دو بیڈروم اپارٹمنٹ کا اوسط ماہانہ کرایہ اب 1,920 کینیڈین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس نے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مناسب رہائش کا حصول مزید مشکل بنا دیا ہے۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب صوبائی وزیر کرسٹین فریشیٹ نے مونٹیریجی کے علاقے سینٹ لازار میں 45 کم لاگت رہائشی یونٹس پر مشتمل ایک منصوبے کا اعلان کیا، جو 2028 میں مکمل ہوگا۔
ادھر اپوزیشن جماعت کیوبیک سولیڈیر نے بھی رہائشی بحران سے نمٹنے کے لیے "اینٹی اسپیکولیشن شیلڈ” کے نام سے چار نئی تجاویز پیش کی ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد جائیداد میں منافع خوری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سخت اقدامات متعارف کرانا اور ایسے کرایہ داروں کو مزید قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے جو ان کے اقدامات سے متاثر ہوتے ہیں۔