اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)راولپنڈی کے علاقے کہوٹہ روڈ پر تھانہ سہالہ کی حدود میں چکیاں اسٹاپ کے قریب قیدی وین سے 14 خطرناک حوالاتیوں کے فرار کے واقعے نے پنجاب پولیس میں کھلبلی مچا دی۔ واقعے کے بعد آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم نے فوری نوٹس لیتے ہوئے غفلت اور لاپرواہی کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا۔
آئی جی پنجاب نے ایس پی ہیڈ کوارٹر مدثر اقبال کو عہدے سے ہٹا کر سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کلوز کر دیا، جبکہ ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر محمد امتیاز کو معطل کرتے ہوئے انہیں بھی سی پی او رپورٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق قیدی وین کے گارڈ انچارج سب انسپکٹر امتیاز کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے، جبکہ قیدیوں کی سکیورٹی پر مامور راولپنڈی پولیس کے پانچ افسران اور اہلکاروں کو بھی سہالہ پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ تحویل میں لیے گئے اہلکاروں میں سب انسپکٹر امتیاز، ہیڈ کانسٹیبل یاسر، کانسٹیبل محرم، کانسٹیبل عذیر اور دیگر اہلکار شامل ہیں۔ ان کے خلاف غفلت اور لاپرواہی کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق قیدی وین سے فرار ہونے والے 14 حوالاتیوں میں سے پنجاب ہائی وے پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چار ملزمان کو دوبارہ گرفتار کر لیا، جنہیں بعد ازاں سہالہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ تاہم 10 خطرناک حوالاتی اب بھی مفرور ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق فرار ہونے والے بیشتر ملزمان قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، دورانِ ڈکیتی قتل، منشیات اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات میں گرفتار تھے۔ مفرور ملزمان میں منشیات کے مقدمے میں گرفتار عالم زیب، سنگین ڈکیتی کے مقدمے میں گرفتار وہاب قیوم، ڈکیتی کے مقدمات میں گرفتار احتشام شبیر، عدیل اور شاہ ضیغم شاہ، قتل کے مقدمات میں گرفتار عدنان عرف دانی اور واحد عرف واحدی جبکہ اقدام قتل اور دیگر جرائم میں گرفتار شامیر، عبدالرحمن اور اسد ستی شامل ہیں۔
واقعے کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس نے الگ الگ سرچ آپریشن شروع کر دیے ہیں۔ پولیس ٹیمیں مفرور حوالاتیوں کے آبائی گھروں پر بھی چھاپے مار رہی ہیں، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے تین خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مفرور حوالاتیوں کی جلد از جلد گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، تاہم آخری اطلاعات تک مزید کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ حکام کے مطابق واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات بھی جاری ہیں۔
راولپنڈی کے علاقے کہوٹہ روڈ پر تھانہ سہالہ کی حدود میں چکیاں اسٹاپ کے قریب قیدی وین سے 14 خطرناک حوالاتیوں کے فرار کے واقعے نے پنجاب پولیس میں کھلبلی مچا دی۔ واقعے کے بعد آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم نے فوری نوٹس لیتے ہوئے غفلت اور لاپرواہی کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا۔
آئی جی پنجاب نے ایس پی ہیڈ کوارٹر مدثر اقبال کو عہدے سے ہٹا کر سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کلوز کر دیا، جبکہ ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر محمد امتیاز کو معطل کرتے ہوئے انہیں بھی سی پی او رپورٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق قیدی وین کے گارڈ انچارج سب انسپکٹر امتیاز کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے، جبکہ قیدیوں کی سکیورٹی پر مامور راولپنڈی پولیس کے پانچ افسران اور اہلکاروں کو بھی سہالہ پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ تحویل میں لیے گئے اہلکاروں میں سب انسپکٹر امتیاز، ہیڈ کانسٹیبل یاسر، کانسٹیبل محرم، کانسٹیبل عذیر اور دیگر اہلکار شامل ہیں۔ ان کے خلاف غفلت اور لاپرواہی کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق قیدی وین سے فرار ہونے والے 14 حوالاتیوں میں سے پنجاب ہائی وے پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چار ملزمان کو دوبارہ گرفتار کر لیا، جنہیں بعد ازاں سہالہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ تاہم 10 خطرناک حوالاتی اب بھی مفرور ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق فرار ہونے والے بیشتر ملزمان قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، دورانِ ڈکیتی قتل، منشیات اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات میں گرفتار تھے۔ مفرور ملزمان میں منشیات کے مقدمے میں گرفتار عالم زیب، سنگین ڈکیتی کے مقدمے میں گرفتار وہاب قیوم، ڈکیتی کے مقدمات میں گرفتار احتشام شبیر، عدیل اور شاہ ضیغم شاہ، قتل کے مقدمات میں گرفتار عدنان عرف دانی اور واحد عرف واحدی جبکہ اقدام قتل اور دیگر جرائم میں گرفتار شامیر، عبدالرحمن اور اسد ستی شامل ہیں۔
واقعے کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس نے الگ الگ سرچ آپریشن شروع کر دیے ہیں۔ پولیس ٹیمیں مفرور حوالاتیوں کے آبائی گھروں پر بھی چھاپے مار رہی ہیں، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے تین خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مفرور حوالاتیوں کی جلد از جلد گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، تاہم آخری اطلاعات تک مزید کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ حکام کے مطابق واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات بھی جاری ہیں۔