اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا ہے کہ غیر ملکی لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کرا کر تمام قانونی تقاضے بروقت مکمل کیے گئے، جبکہ عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیانات سے واقعے کے اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کامران نے کہا کہ متاثرہ لڑکیوں کے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات سے واضح ہو گیا کہ مبینہ زیادتی کس نے کی اور کن افراد نے متاثرہ لڑکیوں کو دھمکیاں دیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے واقعے کا فوری نوٹس لینے کے بعد پولیس نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا۔
ڈی آئی جی کے مطابق جولائی میں غیر ملکی لڑکیوں کے اغوا کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی شروع کر دی۔ متاثرہ لڑکی نے اپنے والد کو گاڑی کی تصویر بھیجی تھی، جس کے نمبر کی مدد سے گاڑی کا سراغ لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس پہلے ہی یہ معلومات موجود تھیں کہ لڑکیوں کو کس نے بلایا تھا اور وہ کس کے کہنے پر پاکستان آئی تھیں۔
فیصل کامران نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ملزمان کا تعلق سرگودھا اور دیگر علاقوں سے سامنے آیا، جس کے بعد مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ دونوں لڑکیاں جون میں اسلام آباد پہنچیں اور بعد ازاں لاہور آئیں، جبکہ گاڑی کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک گھر پر چھاپے کے دوران اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ ایک ملزم نائب وزیراعظم کا رشتہ دار ہے، تاہم اس دعوے کے باوجود اعلیٰ پولیس حکام نے قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق گاڑی کی لوکیشن کی مدد سے رضا ڈار کو بھی ٹریس کیا گیا، جبکہ تحقیقات میں ایک بااثر شخصیت کے قریبی رشتہ دار کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔
فیصل کامران نے کہا کہ مسلسل تحقیقات کے نتیجے میں دونوں غیر ملکی لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔ ابتدا میں اسپین کے سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا، جہاں سے معلوم ہوا کہ ایک متاثرہ لڑکی کا تعلق وینزویلا سے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں نیدرلینڈز کے سفارتخانے سے بھی رابطہ کیا گیا اور سفارتی حکام کی یقین دہانی کے بعد دونوں لڑکیاں میڈیکل معائنے اور عدالت کے روبرو دفعہ 164 کے تحت بیانات ریکارڈ کرانے پر آمادہ ہوئیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق دونوں لڑکیوں کے بیانات عدالت میں نیدرلینڈز کے قونصلر کی موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے۔ تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سفارتخانوں کی درخواست پر دونوں لڑکیوں کو بحفاظت ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ لڑکیوں نے پولیس کی تحقیقات پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔
فیصل کامران نے مزید کہا کہ ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کے دوران تحقیقات میں مزید پیش رفت ہوئی اور اہم برآمدگیاں بھی کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجسٹریٹ کا گھر چند روز قبل ہی دوسری جگہ منتقل ہو چکا تھا، جبکہ مجسٹریٹ کے گھر میں داخل ہونے کے واقعے پر متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا۔