اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز) اسپین کے جنوبی صوبے المیریا میں بھڑکنے والی شدید جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ سینکڑوں امدادی اہلکار آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ حکام نے اسے خطے کی تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگلاتی آگ قرار دیا ہے۔اندلسیا کی ایمرجنسی ایجنسی کے مطابق آگ بجھانے کے لیے 150 سے زائد فائر فائٹرز، امدادی ٹیمیں اور دیگر متعلقہ ادارے مسلسل کام کر رہے ہیں، تاہم شدید گرمی، تیز ہواؤں اور خشک موسم کے باعث امدادی کارروائیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔اندلسیا کے وزیرِ صحت و ایمرجنسیز انتونیو سانز نے اس سانحے کو خطے کی اب تک کی سب سے ہولناک جنگلاتی آگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑا انسانی المیہ ہے، جس نے متعدد خاندانوں کو سوگوار کر دیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد چھ بتائی گئی تھی، تاہم بعد ازاں حکام نے تصدیق کی کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 12 ہو گئی ہے۔ اندلسیا کے سربراہ خوانما مورینو نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرین کی ہر ممکن مدد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔آگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ لاس گایاردوس ہے، جو صوبہ المیریا کا ایک قصبہ ہے۔
شعلوں کے تیزی سے پھیلنے کے باعث قریبی آبادیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں، جبکہ امدادی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ماہرین کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران مغربی یورپ میں غیر معمولی گرمی کی لہروں اور خشک موسم نے جنگلات کو انتہائی آتش گیر بنا دیا ہے، جس کے باعث اس سال جنگلاتی آگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل جنوبی فرانس میں بھی شدید جنگلاتی آگ کے باعث 10 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا تھا۔عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق یورپ دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی اور جنگلاتی آگ جیسے قدرتی خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔