اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں جنگلاتی آگ کی شدت برقرار ہے، جہاں ایک اور فرسٹ نیشن کمیونٹی آگ کی لپیٹ میں آ گئی جبکہ متعدد شمالی علاقوں سے مزید مکینوں کا انخلا جاری ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ایک ہزار کے قریب جنگلاتی آگیں بھڑک رہی ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے پانچ ہزار سے زائد فائر فائٹرز مصروفِ عمل ہیں۔ ان کے مطابق شدید گرمی اور خشک موسم نے رواں سال کو کینیڈا کی تاریخ کے شدید ترین جنگلاتی آگ کے سیزن میں تبدیل کر دیا ہے۔
چیف پولین ڈریک نے بتایا کہ وائٹ واٹر لیک فرسٹ نیشن، جو تھنڈر بے سے تقریباً 250 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، آگ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق متعدد گھروں، ذاتی سامان، اہم کمیونٹی انفراسٹرکچر اور آباؤ اجداد کی قبروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
نشناوبے آسکی نیشن کے ترجمان مائیکل ہائنٹزمین نے الزام لگایا کہ کمیونٹی کو صوبائی حکام کی جانب سے آگ کے قریب پہنچنے کی کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق بیشتر متاثرہ افراد اب تھنڈر بے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل رواں ہفتے کولنز فرسٹ نیشن بھی تیزی سے پھیلنے والی آگ سے تقریباً تباہ ہو گئی تھی، جہاں مکینوں کو کشتیوں کے ذریعے علاقے سے نکلنا پڑا تھا۔
ادھر نیسکانٹاگا فرسٹ نیشن نے بھی اپنے تقریباً 95 رہائشیوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے تھنڈر بے منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ مزید انخلا پیر کو متوقع ہے۔ بعد ازاں متاثرین کو ٹورنٹو منتقل کیا جائے گا کیونکہ تھنڈر بے میں ہوٹلوں کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔
نیسکانٹاگا کے چیف گیری کوئسس نے کہا کہ جنگلاتی آگ کے باعث خوراک اور پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جبکہ دھواں گھروں میں داخل ہو رہا ہے، اس لیے صورتحال مزید خراب ہونے سے پہلے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اونٹاریو حکومت نے کہا ہے کہ شمالی علاقوں میں حالیہ بارش سے بعض مقامات پر آگ کی شدت میں کمی آئی ہے، تاہم قدرتی وسائل کے وزیر مائیک ہیرس کے مطابق آگ پر مکمل قابو پانے کے لیے مسلسل بارش کی ضرورت ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق متعدد شمالی کمیونٹیز کا انخلا مکمل ہو چکا ہے یا جاری ہے، جبکہ کئی دیگر علاقوں میں بھی ممکنہ انخلا کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔