اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ انہوں نے منگل کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے آئندہ چند ہفتوں کے دوران تجارتی مذاکرات کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا نے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
ٹرمپ کا 50 فیصد نئے ٹیرف کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کئی ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے، جن کے تحت 30 روز بعد کینیڈا سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق یہ نئے ٹیرف کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (CUSMA) کے تحت کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کینیڈا کو امریکی تجارت کے ساتھ "غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک” پر جوابدہ ٹھہرا رہے ہیں، جس سے امریکی کاروبار اور محنت کش متاثر ہوئے ہیں۔
امریکا کے اعتراضات کیا ہیں؟
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا کو خاص طور پر کینیڈا کے بعض صوبوں کی جانب سے امریکی شراب کی فروخت پر پابندی، کینیڈا کے سپلائی مینجمنٹ پر مبنی ڈیری نظام اور امریکی گاڑیوں پر مقررہ درآمدی کوٹوں پر اعتراض ہے۔
فی الحال البرٹا اور سسکیچیوان کے علاوہ تمام کینیڈین صوبوں نے امریکی شراب کی فروخت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
شراب کی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ صوبوں کا اختیار ہے
وزیراعظم مارک کارنی سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکا کے نئے دباؤ کے بعد امریکی شراب دوبارہ اسٹورز میں فروخت کی جا سکتی ہے، تو انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ وفاقی حکومت اکیلے نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ مختلف صوبوں نے امریکی ٹیرف اور کینیڈا کی خودمختاری سے متعلق دھمکیوں کے جواب میں یہ فیصلے کیے تھے، جنہیں صوبوں کے عوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کا کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد نیا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
کارنی نے کہا کہ ان پابندیوں میں تبدیلی کا اختیار ہر صوبے کے پاس الگ الگ موجود ہے اور ان کے خیال میں ایسا فیصلہ صرف اس صورت میں ہونا چاہیے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان ایک جامع تجارتی معاہدہ طے پا جائے۔
جوابی اقدامات کے تمام آپشنز کھلے ہیں
وزیراعظم مارک کارنی نے اس سوال پر کہ اگر 50 فیصد امریکی ٹیرف نافذ ہو گئے تو کیا کینیڈا بھی جوابی ٹیرف عائد کرے گا، کہا کہ حکومت تمام ممکنہ آپشنز پر غور کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم مقصد ایسا جامع معاہدہ حاصل کرنا ہے جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہو اور CUSMA معاہدے کے مطابق ہو، تاہم اگر ضرورت پڑی تو کینیڈا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ کا سخت ردعمل
اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ اقدامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت امریکی شراب کو دوبارہ LCBO کی دکانوں پر فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا کو بار بار امریکی دباؤ کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے بلکہ پورے ملک کو متحد ہو کر جواب دینا ہوگا۔
فورڈ نے کہا کہ وزیراعظم کو ایک واضح قومی حکمت عملی پیش کرنی چاہیے اور اگر امریکا ٹیرف نافذ کرتا ہے تو کینیڈا کو بھی اسی شدت سے جواب دینا چاہیے۔
ڈگ فورڈ نے ٹرمپ کو "غنڈہ” قرار دے دیا
ڈگ فورڈ نے صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل کینیڈا کو دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے رویے سے تنگ آ چکے ہیں اور اسکول کے میدان میں غنڈہ گردی کرنے والوں کی طرح ایسے افراد کا مقابلہ کرنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ وہ مسلسل نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔
فورڈ نے زور دیا کہ اگر امریکا ٹیرف لگاتا ہے تو کینیڈا کو بھی "ٹیرف کے بدلے ٹیرف” کی پالیسی اپنانی چاہیے۔
کینیڈا امریکا کے بغیر نہیں چل سکتا
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کینیڈا کے عوام سے محبت کرتے ہیں، لیکن ان کے مطابق کینیڈا امریکا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ کئی برسوں سے کینیڈا نے امریکا کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا، تاہم پہلے کسی امریکی صدر نے اس معاملے پر مؤثر کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ 50 فیصد نئے ٹیرف جنگلاتی آگ کے دھوئیں کے معاملے پر دی گئی سابقہ دھمکیوں سے الگ ہیں۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ کینیڈا اپنے جنگلات کا مناسب انتظام نہیں کر رہا۔
ٹیرف کس قانون کے تحت لگائے جا رہے ہیں؟
وائٹ ہاؤس کے مطابق کینیڈا پر مجوزہ نئے ٹیرف امریکی ٹیرف ایکٹ 1930 کی سیکشن 338 کے تحت عائد کیے جا رہے ہیں۔
اس قانون کے تحت امریکی صدر کو اختیار حاصل ہے کہ اگر کوئی ملک امریکی برآمد کنندگان کے ساتھ امتیازی یا غیر مساوی سلوک کرے تو وہ اس کے خلاف اضافی درآمدی ٹیرف نافذ کر سکتے ہیں۔
مذاکرات کا مستقبل
تجارتی تنازع کے باوجود کینیڈا اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت آئندہ چند ہفتوں میں جامع تجارتی معاہدے کی کوشش کرے گی، تاہم اگر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو 30 روز بعد مجوزہ 50 فیصد امریکی ٹیرف نافذ ہونے سے شمالی امریکا کے تجارتی تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔