اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک نئے انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد نیا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ متاثرہ مصنوعات میں شراب، ہاکی اسٹکس اور سیمنٹ سمیت مختلف اشیا شامل ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام کینیڈا کی مبینہ امتیازی تجارتی پالیسیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔امریکی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی تین الگ الگ دستاویزات کے مطابق واشنگٹن کو کینیڈا کے صوبوں کی جانب سے امریکی شراب کی فروخت پر پابندی، دودھ کی مصنوعات سے متعلق سپلائی مینجمنٹ نظام اور امریکا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں پر بعض ٹیرف اور کوٹہ پالیسیوں پر اعتراض ہے۔
1930 کے ٹیرف قانون کی شق 338 کا استعمال
پیر کو صحافیوں کے ساتھ پس منظر کی بریفنگ میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ امریکی صدر 1930 کے ٹیرف ایکٹ کی شق 338 استعمال کر رہے ہیں۔
یہ ایک ہنگامی تجارتی اختیار ہے، جس کے تحت امریکی صدر ایسے ممالک کی مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی ڈیوٹی عائد کر سکتے ہیں جو امریکی تجارت کے ساتھ امتیازی سلوک کریں۔
عہدیدار نے کہا کہ اس مقصد کے لیے شق 338 اس سے قبل استعمال نہیں کی گئی۔ نئے ٹیرف 19 اگست 2026 سے نافذ ہونے کی توقع ہے۔
کینیڈا، امریکا اور میکسیکو تجارتی معاہدہ بھی تحفظ نہیں دے گا
امریکی عہدیدار کے مطابق شق 338 کے تحت عائد کیے جانے والے ٹیرف تمام متعلقہ مصنوعات پر لاگو ہوں گے، چاہے وہ کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدے کے تحت ہی کیوں نہ درآمد کی گئی ہوں۔
تاہم توانائی، پوٹاش، مچھلی، اہم معدنیات اور بعض دیگر مصنوعات کو نئے ٹیرف سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی قانون کی شق 232 کے تحت پہلے ہی ٹیرف کا سامنا کرنے والی مصنوعات، جن میں اسٹیل اور ایلومینیم شامل ہیں، پر بھی نیا 50 فیصد ٹیرف لاگو نہیں ہوگا۔
امریکا کا کینیڈا پر جوابی کارروائی کا الزام
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ کینیڈا نے دیگر امریکی اتحادیوں اور تجارتی شراکت داروں کے برعکس جوابی اقدامات کیے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کینیڈا کو اس کی جوابی اور امتیازی پالیسیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :مارک کارنی کا برطانوی وزیر اعظم سے رابطہ،ٹرمپ ٹیرف کے جواب میں تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کا عزم
ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد تجارتی عدم توازن کو درست کرنا اور امریکی کارکنوں، کسانوں اور کاروباری اداروں کے لیے منصفانہ حالات یقینی بنانا ہے۔
مارک کارنی نے کینیڈا کے اقدامات کا دفاع کردیا
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے پیر کی رات جاری کیے گئے بیان میں امریکی تجارتی پالیسیوں کے خلاف کینیڈا کے ٹیرف اقدامات کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی اقدامات اور کینیڈا کی خودمختاری کو لاحق خطرات کے جواب میں تمام صوبے، علاقے اور کینیڈین شہری متحد ہوئے ہیں۔
مارک کارنی کے مطابق ملکی معیشت، کارکنوں، کسانوں، کاروباری اداروں اور خاندانوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔
کن کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف عائد ہوگا؟
وائٹ ہاؤس نے کینیڈا کی مصنوعات کی تین الگ الگ فہرستیں جاری کی ہیں، جن پر 30 دن کے بعد 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
البرٹا اور ساسکیچیوان کے علاوہ کینیڈا کے بیشتر صوبوں نے امریکی شراب کو دکانوں میں فروخت کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
اس کے جواب میں ٹرمپ انتظامیہ نے شراب کی مختلف مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں مالٹ سے تیار کردہ بیئر، اسپارکلنگ وائن اور بعض لکڑی کی مصنوعات شامل ہیں۔
ڈگ فورڈ کا برابر کا جواب دینے کا مطالبہ
اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ امریکی شراب پر پابندی کے نمایاں حامی رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اونٹاریو کے تحفظ کے لیے جدوجہد کبھی بند نہیں کریں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں ڈگ فورڈ نے کہا کہ اگر امریکا یہ ٹیرف نافذ کرتا ہے تو کینیڈا کو بھی ٹیرف کے بدلے ٹیرف اور ہر ڈالر کے بدلے ڈالر کے اصول پر جواب دینا چاہیے۔
کیوبیک کی پریمیئر کرسٹین فریشیٹ نے بھی ٹرمپ کے نئے ٹیرف کو بلاجواز قرار دیا۔
سپلائی مینجمنٹ نظام پر امریکا کا اعتراض
صدر ٹرمپ طویل عرصے سے کینیڈا کے سپلائی مینجمنٹ نظام کی مخالفت کرتے آ رہے ہیں۔کینیڈا میں اس نظام کے تحت دودھ، مرغی اور انڈوں کی پیداوار کو منظم کیا جاتا ہے، جبکہ درآمدات پر کنٹرول برقرار رکھ کر کسانوں اور صارفین کے لیے قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس کے جواب میں امریکا نے دودھ سے تیار ہونے والی متعدد مصنوعات، بعض ملاوٹ شدہ شربتوں، مولاسس مصنوعات اور غیر الکوحل بیئر پر بھی نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا کے وفاقی حکام اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ تجارتی مذاکرات میں سپلائی مینجمنٹ نظام پر کسی قسم کی رعایت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
گاڑیوں پر کینیڈین ٹیرف کا بھی امریکی جواب
امریکا کو کینیڈا کی جانب سے امریکی ساختہ گاڑیوں پر عائد 25 فیصد ٹیرف پر بھی اعتراض ہے۔یہ ٹیرف ان گاڑیوں پر نافذ ہے جو کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدے کی شرائط پر پوری نہیں اترتیں۔
کینیڈا نے یہ ٹیرف اپریل 2025 میں نافذ کیا تھا۔ یہ اقدام امریکا کی جانب سے درآمدی گاڑیوں اور اہم آٹو پارٹس پر عالمی سطح پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے جواب میں کیا گیا تھا۔
اب ٹرمپ انتظامیہ نے پلائی ووڈ، گالف کا سامان، آئس اسکیٹس، ویڈیو گیم کنسولز، کپڑوں اور حتیٰ کہ ٹوائلٹ پیپر جیسی مصنوعات پر بھی 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکا نے اسے تجارتی جنگ قرار دینے سے انکار کردیا
پیر کی بریفنگ کے دوران امریکی انتظامیہ کے سینئر عہدیدار نے اصرار کیا کہ ان اقدامات کو کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ امریکا کی جانب سے دفاعی اقدامات ہیں، جن کا مقصد کینیڈا کی مبینہ امتیازی پالیسیوں کا ازالہ کرنا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ نئے ٹیرف ختم کرنے کے لیے کینیڈا کو کیا کرنا ہوگا تو عہدیدار نے کہا کہ امریکا اس معاملے میں ایک وقت میں ایک قدم اٹھا رہا ہے۔
جنگلاتی آگ کے دھویں پر بھی ٹیرف کی دھمکی
گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے کینیڈا سے امریکا آنے والے جنگلاتی آگ کے دھویں پر بھی اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔
اتوار کے روز انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر وزیراعظم مارک کارنی سے بات کی۔ دونوں رہنما نیوجرسی کے شہر ایسٹ ردرفورڈ میں 2026 کے فیفا مردوں کے عالمی کپ کے فائنل میں موجود تھے۔
میچ کے بعد میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مارک کارنی سے کہا کہ کینیڈا کو جنگلاتی آگ کا دھواں امریکا آنے سے روکنا ہوگا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کینیڈا سے آنے والے دھویں نے امریکی فضا کو آلودہ اور زہریلا بنا دیا ہے۔