پاکستان میں موبائل فون کی درآمدات ،ٹیکس محصولات، اہم اعداد و شمار سامنے آ گئے

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان کسٹمز کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 3 کروڑ 20 لاکھ موبائل فون درآمد کیے گئے جبکہ ان درآمدات کی مجموعی مالیت تقریباً 520 ارب روپے رہی۔

ان درآمدات پر قومی خزانے کو 121 ارب روپے کی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی مد میں آمدن حاصل ہوئی جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 36 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

پاکستان کسٹمز کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موبائل فون کی درآمدات میں مجموعی طور پر استحکام برقرار رہا تاہم درآمدی حجم میں اضافہ بنیادی طور پر مقامی صنعت کے لیے درآمد کی جانے والی سی کے ڈی (CKD) اور ایس کے ڈی (SKD) کٹس کی وجہ سے دیکھنے میں آیا جنہیں ملک میں اسمبلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

80 فیصد درآمدات مقامی اسمبلی کے لیے کی گئیں

اعلامیے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران موبائل فون درآمدات کی تقریباً 80 فیصد مالیت ایسی کٹس پر مشتمل تھی جو مقامی موبائل فون اسمبلنگ یونٹس کے لیے درآمد کی گئیں۔ اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں مقامی موبائل فون صنعت مسلسل ترقی کر رہی ہے اور زیادہ تر کمپنیاں مکمل تیار شدہ موبائل فون درآمد کرنے کے بجائے ملک کے اندر اسمبلنگ کو ترجیح دے رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فکسڈ ٹیکس اسکیم: تاجروں کی رجسٹریشن کے لیے موبائل ایپ تیار

ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی اسمبلی کے فروغ سے نہ صرف صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں، جبکہ درآمدی اخراجات میں بھی کسی حد تک کمی آتی ہے۔

مکمل تیار موبائل فونز کی درآمد محدود رہی

پاکستان کسٹمز کے مطابق مکمل تیار شدہ موبائل فونز کی درآمدات مجموعی درآمدی مالیت کے پانچویں حصے سے بھی کم رہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی صنعتی پالیسیوں اور مقامی اسمبلنگ کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں تیار شدہ فونز کی نسبت مقامی پیداوار کا رجحان مضبوط ہوا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اگرچہ پریمیم اور مہنگے موبائل فونز کی درآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم اس سے مقامی صنعت متاثر نہیں ہوئی کیونکہ یہ مخصوص صارفین کی طلب کو پورا کرنے کے لیے درآمد کیے جاتے ہیں۔

121 ارب روپے محصولات، قومی خزانے کو بڑا فائدہ

پاکستان کسٹمز کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران موبائل فون درآمدات پر وصول کی جانے والی ڈیوٹیز اور مختلف ٹیکسز کی مجموعی مالیت 121 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 36 فیصد سے زائد زیادہ ہے۔

حکام کے مطابق یہ اضافہ صرف درآمدی حجم بڑھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ قانونی درآمدات کے فروغ، بہتر نگرانی، جدید کسٹمز نظام اور ٹیکس وصولی کے مؤثر اقدامات کا بھی نتیجہ ہے۔

گرے مارکیٹ میں کمی، قانونی درآمدات میں اضافہ
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گرے مارکیٹ کے خلاف کیے گئے اقدامات کے باعث غیر قانونی موبائل فون تجارت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ درآمد کنندگان نے قانونی ذرائع سے موبائل فون درآمد کرنا شروع کیے جس سے نہ صرف صارفین کو رجسٹرڈ اور قانونی مصنوعات دستیاب ہوئیں بلکہ قومی خزانے کی آمدن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔
کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ دستاویزی درآمدات میں اضافے سے مارکیٹ زیادہ شفاف ہوئی ہے اور حکومت کو محصولات کی مد میں بہتر آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔

صارفین کو بھی قانونی درآمدات سے فائدہ
پاکستان کسٹمز کے مطابق قانونی تجارتی ذرائع سے درآمد کیے جانے والے موبائل فون صارفین کے لیے بھی زیادہ محفوظ اور اقتصادی ثابت ہو رہے ہیں۔ رجسٹرڈ فونز پر وارنٹی، معیار اور بعد از فروخت خدمات کی دستیابی صارفین کا اعتماد بڑھا رہی ہے جبکہ غیر قانونی اور اسمگل شدہ فونز کے مقابلے میں ان کی خریداری زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قانونی درآمدات کے فروغ سے موبائل فون مارکیٹ مزید منظم ہوگی، صارفین کو بہتر سہولیات ملیں گی اور مقامی اسمبلنگ کی صنعت بھی مزید مستحکم ہوگی۔
مقامی صنعت کے لیے مثبت اشارہ
معاشی ماہرین کے مطابق موبائل فون اسمبلنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافے سے پاکستان کی الیکٹرانکس صنعت کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں مقامی سطح پر مزید جدید موبائل فون تیار کیے جا سکیں گے جس سے درآمدی بل میں کمی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اگر مقامی مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی جاری رکھتی ہے تو پاکستان خطے میں موبائل فون اسمبلنگ کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

 رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں ایل این جی، موبائل فونز کی درآمدات میں نمایاں کمی 

پاکستان کسٹمز کا کہنا ہے کہ قانونی تجارت کے فروغ، گرے مارکیٹ کی حوصلہ شکنی اور جدید کسٹمز نظام کے ذریعے نہ صرف قومی خزانے کی آمدن میں اضافہ ممکن ہوا ہے بلکہ مقامی صنعت کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم ہوئی ہیں، جو مستقبل میں ملکی معیشت کے لیے مثبت نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں