اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے مصروف ترین ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے ٹرمینل 1 اور ٹرمینل 3 کی تجدید اور جدید کاری کے لیے 1.5 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس سے مسافروں کو کیا فائدہ ہوگا؟
یہ بھی پڑھیں :ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب آگ لگ گئی،ائیر ٹریفک متاثر نہیں ہوئی
ایئرپورٹ حکام کے مطابق 2025 کے دوران تقریباً 4 کروڑ 70 لاکھ مسافروں نے پیئرسن ایئرپورٹ کے ذریعے دنیا بھر کے 200 سے زائد مقامات کا سفر کیا۔ اندازہ ہے کہ 2030 کی دہائی کے وسط تک یہ تعداد بڑھ کر 6 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ اسی لیے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹرمینلز کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق اپ گریڈ کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
منصوبے کے تحت کیا تبدیلیاں کی جائیں گی؟
یہ منصوبہ پیئرسن ایئرپورٹ کے دس سالہ Pearson LIFT پروگرام کا حصہ ہے، جسے کینیڈا کے ایئرپورٹس کی تاریخ کا سب سے بڑا بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت ٹرمینل 1 اور ٹرمینل 3 میں چیک اِن ایریاز، بورڈنگ گیٹس، مسافروں کی پروسیسنگ، جدید سکیورٹی اسکریننگ، کسٹمز اور امیگریشن کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ نئے فوڈ آؤٹ لیٹس، بہتر سائن بورڈز، جدید الیکٹرانک رہنمائی کے نظام اور ہزاروں نئی اندرونی لائٹس بھی نصب کی جائیں گی تاکہ مسافروں کو زیادہ آرام دہ اور منظم ماحول فراہم کیا جا سکے۔
اگرچہ انتظامیہ نے ہر حصے میں ہونے والی مخصوص تبدیلیوں کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ منصوبے کا مقصد ایئرپورٹ کے ہر مرحلے کو پہلے سے زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔
حکام اس منصوبے کو کیوں اہم قرار دے رہے ہیں؟
ٹورنٹو پیئرسن ایئرپورٹ کی صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیبورا فلنٹ کے مطابق مسافروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے گنجائش بڑھانے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کے مسافر صرف اپنی پرواز تک پہنچنے کی سہولت نہیں بلکہ پورے سفری تجربے میں بہتری چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایئرپورٹ کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہی اس منصوبے کا بنیادی مقصد ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے کا ایک بڑا حصہ ایسا ہوگا جو عام مسافروں کو نظر نہیں آئے گا کیونکہ دیواروں کے پیچھے، فرش کے نیچے اور مختلف آپریٹنگ سسٹمز میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ ایئرپورٹ کا بنیادی ڈھانچہ مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔
مسافروں کے لیے کیا بہتری آئے گی؟
منصوبے پر کام کرنے والی ڈیزائن کمپنی Dialog کے شراکت دار جم اینڈرسن نے بتایا کہ تمام تبدیلیاں مسافروں کو مدنظر رکھ کر کی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق ٹرمینلز کو زیادہ روشن، کشادہ اور منظم بنایا جائے گا تاکہ مسافر آسانی سے اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔ بہتر سائن بورڈز کے ساتھ جدید الیکٹرانک رہنمائی کا نظام بھی نصب کیا جائے گا، جبکہ عمارت کے اندرونی ڈیزائن کو بھی اس انداز میں تبدیل کیا جائے گا کہ راستہ تلاش کرنا زیادہ آسان ہو جائے۔
نور کمپنی کے نائب صدر مارک بون کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کو پیئرسن ایئرپورٹ پر تین دہائیوں سے زیادہ کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے اور اسی تجربے کی بنیاد پر ایسی تبدیلیاں کی جائیں گی جو مستقبل میں بھی مؤثر ثابت ہوں۔
تعمیراتی کام کے دوران ایئرپورٹ کیسے فعال رہے گا؟
ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق تعمیراتی کام مختلف مراحل میں کیا جائے گا تاکہ پروازوں اور مسافروں کے معمولات متاثر نہ ہوں۔
پی سی ایل کنسٹرکشن کینیڈا کی نائب صدر مونیک بک برگر نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ایک ایسے ماحول میں تعمیراتی کام کرنا ہے جہاں روزانہ ہزاروں مسافر، ایئرلائنز اور دیگر کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔
ان کے مطابق تعمیراتی منصوبہ اس انداز میں مکمل کیا جائے گا کہ ایئرپورٹ محفوظ طریقے سے کام کرتا رہے اور مسافروں کو کم سے کم مشکلات پیش آئیں۔
کیا منصوبہ مکمل ہونے کی کوئی تاریخ دی گئی ہے؟
حکام نے منصوبے کے مختلف مراحل یا تکمیل کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ کام مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا تاکہ ٹرمینلز کو بند کیے بغیر بہتری کا عمل جاری رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ ٹرمینل 3 کو 1991 جبکہ ٹرمینل 1 کو 2004 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا، اس لیے دونوں ٹرمینلز کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
کیا صرف یہی منصوبہ جاری ہے؟
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مئی میں پیئرسن ایئرپورٹ انتظامیہ پہلے ہی 3 ارب ڈالر کے ایک اور منصوبے کا اعلان کر چکی ہے، جس کا مقصد فضائی ٹریفک کی گنجائش بڑھانا اور پروازوں کی بروقت آمد و روانگی کو بہتر بنانا ہے۔
اس منصوبے کے تحت رن ویز کی مرمت، نئی ہائی اسپیڈ ٹیکسی وے، 20 ہزار ایئر فیلڈ لائٹس کی اپ گریڈیشن، جدید ریٹیل سہولیات اور تقریباً 30 کلومیٹر طویل سامان منتقل کرنے کے نظام کو بھی جدید بنایا جائے گا۔
مسافروں کو آخر کیا فائدہ ہوگا؟
ایئرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام منصوبوں کا بنیادی مقصد مستقبل میں بڑھتی ہوئی مسافروں کی تعداد کو بہتر انداز میں سنبھالنا، چیک اِن، سکیورٹی، امیگریشن اور بورڈنگ کے مراحل کو تیز کرنا اور ٹورنٹو آنے یا یہاں سے روانہ ہونے والے لاکھوں مسافروں کو زیادہ محفوظ، آرام دہ اور جدید سفری تجربہ فراہم کرنا ہے۔ اگر منصوبے اپنی منصوبہ بندی کے مطابق مکمل ہوئے تو پیئرسن ایئرپورٹ نہ صرف کینیڈا بلکہ شمالی امریکہ کے جدید ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہو سکتا ہے۔