اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد کینیڈا کی وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج کی امریکا کے ساتھ مشترکہ افتتاحی تقریب منعقد نہیں کی جائے گی۔
وفاقی وزیرِ انفراسٹرکچر گریگور رابرٹسن کی ترجمان جینا غصابہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کی مشترکہ جشن کی تقریب منعقد کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ تاہم پل کی افتتاحی تقریب صرف کینیڈا کی جانب سے جمعہ کو منعقد کی جائے گی، جبکہ پل پیر کے روز ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں :بوئنگ کینیڈا نے ونی پیگ پلانٹ میں 12,000 مربع فٹ کی نئی توسیع کا باضابطہ افتتاح کردیا
فیصلہ کیوں کیا گیا؟
ذرائع کے مطابق جمعہ کی تقریب کے دعوت نامے پہلے ہی بھیجے جا چکے تھے، تاہم منگل کو فیصلہ کیا گیا کہ تقریب صرف کینیڈا تک محدود رکھی جائے گی۔ اس کے بعد شرکا کو بھی فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اگر تجارتی تنازع حل نہ ہوا تو 30 روز کے اندر متعدد کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کیے جائیں گے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات بعض کینیڈین صوبوں میں امریکی شراب پر پابندی، کینیڈا کے سپلائی مینجمنٹ ڈیری نظام اور امریکی گاڑیوں کے لیے مقررہ کوٹوں کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔
کارنی اور ٹرمپ کے درمیان کیا بات ہوئی؟
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بتایا کہ انہوں نے منگل کی صبح صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارتی مذاکرات کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب مشی گن کی گورنر گریچن وِٹمر اور ونڈسر-ڈیٹرائٹ برج اتھارٹی نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ پل کیوں اہم سمجھا جاتا ہے؟
اونٹاریو اور امریکی ریاست مشی گن کو ملانے والا گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور آمدورفت کا اہم منصوبہ ہے۔
اس پل کا نام کینیڈا کے معروف آئس ہاکی کھلاڑی گورڈی ہاؤ کے نام پر رکھا گیا، جنہوں نے ڈیٹرائٹ ریڈ ونگز کو چار مرتبہ اسٹینلے کپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ونڈسر کے میئر ڈریو ڈِلکنز نے کہا کہ گورڈی ہاؤ احترام، مہربانی اور کامیابی کے جذبے کی علامت تھے۔ ان کے مطابق اگرچہ افتتاحی تقریب توقعات کے مطابق نہیں ہو سکے گی، لیکن یہ پل آنے والی نسلوں تک علاقائی معیشت کے لیے مثبت کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈین عوام امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک مستقبل میں بھی انہی اقدار کو اپنائیں گے جن کی نمائندگی گورڈی ہاؤ کرتے تھے۔
پل کا افتتاح پہلے کیوں مؤخر ہوا تھا؟
گورڈی ہاؤ پل کا افتتاح اس سے قبل بھی مؤخر کیا جا چکا ہے، جب ٹرمپ انتظامیہ نے منصوبے کے معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا۔
اس وقت ایمبیسیڈر برج کی مالک مورون فیملی، جو ریپبلکن پارٹی کی اہم عطیہ دہندہ بھی سمجھی جاتی ہے، نے منصوبے پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
ابتدائی طور پر 12 جون کو 6.4 ارب ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والے اس پل کی افتتاحی تقریب مقرر تھی، تاہم بعد میں وائٹ ہاؤس کی مداخلت کے باعث تقریب ملتوی کر دی گئی۔
بعد ازاں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک اور کینیڈا میں امریکی سفیر پیٹ ہوکسٹرا نے نئے معاہدے پر مذاکرات کیے، جس کے بعد 10 جولائی کو پل کھولنے کا نیا معاہدہ طے پایا۔
نئے معاہدے میں کیا طے ہوا؟
وزیراعظم مارک کارنی کے مطابق پہلے پندرہ برس تک پل سے حاصل ہونے والی خالص آمدنی، آپریشنل اخراجات منہا کرنے کے بعد، کینیڈا اور امریکا کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔
امریکا کا حصہ مشی گن کے علاقائی اقتصادی ترقیاتی پروگرام پر خرچ ہوگا، جبکہ کینیڈا اپنی آمدنی تعمیراتی قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کرے گا۔
تاہم بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس معاہدے میں تعمیراتی قرض کی ادائیگی کے اخراجات سے متعلق واضح شق شامل نہیں، جس کے باعث معاہدے کی بعض تفصیلات پر اب بھی سوالات موجود ہیں۔
اصل معاہدہ کیا کہتا ہے؟
پل کی تعمیر سے متعلق 2012 میں ہونے والا اصل معاہدہ بدستور برقرار ہے، جس کے تحت تعمیراتی اخراجات کینیڈا نے برداشت کیے تھے۔
اس معاہدے کے مطابق ابتدائی 15 برس مکمل ہونے کے بعد پل سے حاصل ہونے والی تمام ٹول آمدنی اس وقت تک کینیڈا کو ملتی رہے گی جب تک تعمیراتی لاگت پوری طرح واپس نہ ہو جائے۔ اس کے بعد ٹول آمدنی کینیڈا اور مشی گن کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔
گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج کی ملکیت حکومتِ کینیڈا اور ریاست مشی گن کے درمیان مشترکہ طور پر برقرار رہے گی۔