اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی تاریخ کے سب سے مشہور غیر شناختہ فضائی شے (یو ایف او) واقعے کے مرکزی گواہ لارِی وکنز 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
تقریباً چھ دہائیاں قبل صرف 17 برس کی عمر میں انہوں نے ایک ایسی پراسرار شے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا جو آسمان سے گزرتے ہوئے بحر اوقیانوس میں جا گری۔ اس واقعے نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے کینیڈا میں سنسنی پھیلا دی اور آج بھی اسے ملک کے سب سے پراسرار واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
رقص کی محفل سے واپسی پر غیر معمولی منظر
چار اکتوبر 1967 کی صاف رات لارِی وکنز اپنے چند دوستوں کو رقص کی تقریب سے واپس گھر چھوڑنے جا رہے تھے۔ وہ نووا اسکاٹیا کے ساحلی علاقے میں شاہراہ نمبر تین پر سفر کر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر آسمان پر پڑی۔
انہوں نے بتایا کہ آسمان پر چار روشنیاں نظر آئیں جو پہلے ایک خاص ترتیب سے چمک رہی تھیں اور پھر ایک ساتھ روشن ہو گئیں۔ چند لمحوں بعد یہ پراسرار شے تیزی سے نیچے آئی اور ماہی گیروں کے گاؤں شیگ ہاربر کے قریب بحر اوقیانوس میں جا گری۔
یہ بھی پڑھیں :
ڈی ڈے کے ہیرو اور کینیڈا کے قابل فخر سپاہی، 101 سالہ کیپٹن بل ولسن انتقال کرگئے
پولیس نے پہلے یقین نہ کیا
واقعہ دیکھنے کے فوراً بعد لارِی وکنز قریبی ٹیلی فون بوتھ پہنچے اور رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس کو اطلاع دی۔ ابتدا میں پولیس اہلکاروں نے ان کی بات پر شک کیا اور یہاں تک پوچھ لیا کہ کیا انہوں نے شراب پی رکھی ہے۔
فون بند ہونے کے کچھ ہی لمحوں بعد اسی بوتھ کی گھنٹی دوبارہ بجی۔ اس بار پولیس نے انہیں وہیں رکنے کی ہدایت کی کیونکہ مزید افراد نے بھی اسی قسم کی اطلاع دی تھی۔ اس کے بعد پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور یوں یہ واقعہ باقاعدہ تحقیقات کا حصہ بن گیا۔
درجنوں گواہوں نے بھی روشنی دیکھی
یہ واقعہ جلد ہی "شیگ ہاربر یو ایف او واقعہ” کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ صرف لارِی وکنز ہی نہیں بلکہ متعدد دیگر افراد نے بھی آسمان میں روشنیاں دیکھنے کی تصدیق کی۔
محققین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کو کینیڈا کی تاریخ کا سب سے معتبر یو ایف او واقعہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے متعدد عینی شاہدین موجود تھے، سرکاری اداروں نے تحقیقات کیں اور اس حوالے سے سرکاری دستاویزات بھی محفوظ ہیں۔
سمندر میں کیا ملا؟
پولیس اور مقامی ماہی گیروں نے کشتیوں کے ذریعے سمندر میں تلاش کا عمل شروع کیا۔ تلاش کے دوران پانی کی سطح پر زرد رنگ کا جھاگ دیکھا گیا جو کافی فاصلے تک پھیلا ہوا تھا۔ بعض گواہوں کا کہنا تھا کہ اس جھاگ سے گندھک جیسی بو آ رہی تھی۔
کچھ افراد کے مطابق پراسرار شے پانی میں غائب ہو گئی جبکہ بعض کا کہنا تھا کہ وہ سمندر میں ڈوب گئی۔ تاہم اس وقت وہاں کسی طیارے کی پرواز کی اطلاع موجود نہیں تھی، جس سے واقعے نے مزید پراسرار شکل اختیار کر لی۔
بحریہ کے غوطہ خور بھی متحرک ہوئے
اگلے روز بھی تلاش جاری رہی اور لارِی وکنز خود بھی اس کارروائی میں شریک رہے۔ بعد ازاں کینیڈین بحریہ کے غوطہ خوروں کی خصوصی ٹیم کو طلب کیا گیا جس نے کئی روز تک سمندر کی تہہ کا جائزہ لیا۔
مزید پڑھیں :
کینیڈا کے معمر ترین شہری،دوسری جنگ عظیم کے فوجی برڈیٹ سسلر 110 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
غوطہ خوروں نے مختلف گہرائیوں میں تلاش کی لیکن سرکاری طور پر کسی طیارے یا نامعلوم شے کا ملبہ برآمد ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ تاہم بعض مقامی افراد کا دعویٰ تھا کہ پانی سے کچھ ٹکڑے نکالے گئے تھے، اگرچہ اس کی سرکاری تصدیق کبھی سامنے نہیں آئی۔
قومی سطح پر تحقیقات
اس واقعے کی تحقیقات کینیڈا کے قومی دفاع کے اعلیٰ حکام تک پہنچیں۔ سرکاری یادداشتوں میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران اس امکان کو مسترد کر دیا گیا تھا کہ یہ کوئی عام طیارہ، روشنی پیدا کرنے والا آلہ یا کوئی دوسری معروف شے تھی۔
بعد میں ایک سرکاری دستاویز میں اس واقعے کو "غیر شناختہ فضائی شے” قرار دیا گیا، تاہم حکام نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس کا تعلق لازماً کسی خلائی مخلوق سے تھا۔
زندگی بھر اسی واقعے سے پہچانے گئے
لارِی وکنز نے اپنی عملی زندگی کا زیادہ تر حصہ ماہی گیری کے شعبے میں گزارا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ شیگ ہاربر یو ایف او سوسائٹی سے وابستہ ہو گئے، جو اس تاریخی واقعے پر قائم عجائب گھر اور سالانہ کانفرنس کا انتظام کرتی ہے۔
ان کی بیٹی اسٹیفنی وکنز کے مطابق ان کے والد ابتدا میں اس واقعے پر زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ بعض لوگ ان کا مذاق اڑاتے یا یقین نہیں کرتے تھے۔ تاہم بعد کے برسوں میں انہوں نے اس واقعے کو مقامی تاریخ کا اہم حصہ سمجھتے ہوئے عوام کے سامنے بیان کرنا شروع کر دیا۔
وہ اکثر ایسے سیاحوں کے لیے بھی عجائب گھر کھول دیتے تھے جو بند اوقات میں وہاں پہنچ جاتے تھے، تاکہ لوگ اس پراسرار واقعے کے بارے میں جان سکیں۔
معمہ آج بھی برقرار
1967 کے اس واقعے کو تقریباً ساٹھ برس گزر چکے ہیں، لیکن آج تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس رات سمندر میں گرنے والی شے دراصل کیا تھی۔ یہی وجہ ہے کہ شیگ ہاربر کا یہ واقعہ نہ صرف کینیڈا بلکہ دنیا بھر میں یو ایف او سے متعلق سب سے زیادہ زیر بحث آنے والے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
لارِی وکنز کی وفات کے ساتھ اس تاریخی واقعے کا ایک اہم کردار ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا، لیکن ان کی دی گئی پہلی اطلاع اور اس کے بعد ہونے والی تحقیقات آج بھی اس پراسرار داستان کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔