ویسٹ جیٹ اور ملازمین میں معاہدہ نہ ہو سکا،ہزاروں فضائی میزبانوں نے کام چھوڑ دیا،پروازیں منسوخ

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  کینیڈا کی معروف فضائی کمپنی ویسٹ جیٹ کو اس وقت بڑے آپریشنل بحران کا سامنا ہے جب کمپنی اور فضائی میزبانوں کی یونین کے درمیان نئے اجتماعی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔

مذاکرات کی ناکامی کے بعد ہزاروں فضائی میزبانوں نے ہڑتال شروع کر دی جس کے باعث ملک بھر میں متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ہزاروں مسافروں کے سفری منصوبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ مصروف سفری سیزن میں پیدا ہونے والی اس صورتحال نے ہوائی اڈوں پر بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے اور مسافر اپنی پروازوں سے متعلق مسلسل معلومات حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

چار ہزار سے زائد فضائی میزبان ہڑتال میں شامل

ذرائع کے مطابق ویسٹ جیٹ سے وابستہ چار ہزار 287 فضائی میزبانوں نے ہڑتال میں حصہ لیا۔ دوسری جانب کمپنی نے بھی یونین کی کارروائی کے جواب میں لاک آؤٹ کا اعلان کیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے باعث کئی پروازیں پہلے ہی منسوخ کی جا چکی ہیں جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند روز میں مزید پروازیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :

ویسٹ جیٹ بحران شدت اختیار کر گیا، ہڑتال کے خدشے پر طیارے گراؤنڈ، ہزاروں مسافر پریشان

کمپنی کا کہنا ہے کہ جن مسافروں کی پروازیں منسوخ ہوں گی انہیں حالات کے مطابق متبادل پرواز یا رقم کی واپسی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہوائی اڈے روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کی تازہ صورتحال ضرور معلوم کریں۔

تنازع کی اصل وجہ کیا ہے؟

ویسٹ جیٹ اور فضائی میزبانوں کی نمائندہ یونین کے درمیان اختلافات کا بنیادی سبب تنخواہوں اور کام کے اوقات کا نظام ہے۔ یونین کا مؤقف ہے کہ فضائی میزبانوں سے متعدد ایسی ذمہ داریاں لی جاتی ہیں جن کا انہیں کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا۔

یونین کے مطابق پرواز سے پہلے ہونے والی بریفنگ، مسافروں کی بورڈنگ، جہاز کی تیاری اور زمین پر تاخیر کے دوران انجام دی جانے والی کئی ذمہ داریاں بلا معاوضہ سرانجام دی جاتی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہر فضائی میزبان اوسطاً ماہانہ تقریباً 35 گھنٹے بغیر اجرت کام کرتا ہے جس کے باعث انہیں ہر ماہ قابل ذکر مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملازمین صرف اس وقت سے تنخواہ حاصل کرنا شروع کرتے ہیں جب طیارہ رن وے کی جانب روانہ ہوتا ہے جبکہ اس سے پہلے کی تمام ذمہ داریاں بھی ملازمت کا حصہ ہوتی ہیں۔

کمپنی کا مؤقف

ویسٹ جیٹ انتظامیہ نے یونین کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی شمالی امریکا میں رائج روایتی تنخواہی نظام کے مطابق ادائیگیاں کرتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق مختلف ذمہ داریوں اور زمینی امور کو مجموعی معاوضے کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مذاکرات کے دوران فضائی میزبانوں کے لیے چار برسوں میں مجموعی طور پر تقریباً 36 فیصد تنخواہوں میں اضافے کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ شیڈولنگ میں بہتری، دورانِ سفر رہائش اور دیگر سہولیات میں اضافے کی تجاویز بھی دی گئی تھیں۔

مزید پڑھیں :

ویسٹ جیٹ کی 4,400 فلائٹ اٹینڈنٹس کی ہڑتال کا خطرہ، ہزاروں مسافروں کی پروازیں متاثر ہونے کا خدشہ

انتظامیہ کے مطابق پیش کردہ پیکیج نہ صرف ویسٹ جیٹ بلکہ کینیڈا کی فضائی صنعت کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا تھا، تاہم دونوں فریق کسی مشترکہ نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

یونین نے پیشکش ناکافی قرار دے دی

یونین کا کہنا ہے کہ مذاکرات صرف تنخواہوں تک محدود نہیں تھے بلکہ ملازمین کے حقوق، کام کے اوقات، ڈیوٹی کے نظام، آرام کے وقفوں اور دیگر بنیادی امور بھی زیر بحث تھے۔ یونین کے مطابق کمپنی نے صرف چند نکات کو نمایاں کیا جبکہ ملازمین کے دیگر اہم مطالبات بدستور حل طلب ہیں۔
یونین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جب تک ملازمین کے لیے بہتر اور منصفانہ معاہدہ نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

مسافروں کے لیے نئی مشکلات

ہڑتال کے باعث سب سے زیادہ مشکلات مسافروں کو پیش آ رہی ہیں۔ کئی افراد کی پروازیں اچانک منسوخ ہونے سے انہیں متبادل سفری انتظامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ بعض مسافر کاروباری مصروفیات جبکہ دیگر تعطیلات یا خاندانی تقریبات کے لیے سفر کر رہے تھے، لیکن ہڑتال کے باعث ان کے منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔

سفری ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ مسافر اپنی بکنگ کی صورتحال مسلسل چیک کرتے رہیں اور اگر ضرورت ہو تو متعلقہ ٹریول ایجنسی یا فضائی کمپنی سے رابطے میں رہیں تاکہ بروقت متبادل انتظام کیا جا سکے۔

سفری انشورنس پر بھی سوالات

ماہرین کے مطابق ایسے مسافر جنہوں نے ہڑتال کے امکانات سامنے آنے کے بعد سفری انشورنس خریدی، انہیں ممکن ہے مکمل تحفظ حاصل نہ ہو کیونکہ بعض انشورنس کمپنیاں ہڑتال کو پہلے سے معلوم صورتحال قرار دے کر ادائیگی سے انکار کر سکتی ہیں۔ اس لیے مسافروں کو اپنی انشورنس پالیسی کی شرائط کا بغور جائزہ لینے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

بحران کب ختم ہوگا؟

فی الحال دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات موجود ہیں، تاہم فوری طور پر کسی پیش رفت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اگر جلد معاہدہ طے نہ پایا تو مزید پروازیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور کینیڈا کے مصروف فضائی نظام پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلے کا مستقل حل صرف کامیاب مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے تاکہ ملازمین کے مطالبات بھی پورے ہوں اور لاکھوں مسافروں کو درپیش مشکلات کا بھی خاتمہ ہو سکے

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں