اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا نے کئی دہائیوں تک اپنے جوہری توانائی کے شعبے کو اس انداز میں ترقی دی کہ ایندھن کی فراہمی کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار نہ کرنا پڑے.
تاہم اب ملک کے نئے چھوٹے جوہری ری ایکٹرز کے منصوبے نے اس پالیسی کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اونٹاریو میں تعمیر ہونے والے جدید چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کے لیے افزودہ یورینیم امریکہ، فرانس اور برطانیہ سے حاصل کیا جائے گا، جس کے باعث توانائی کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی کینیڈا کے روایتی جوہری پروگرام سے نمایاں انحراف ہے کیونکہ ماضی میں ملک کے بیشتر جوہری ری ایکٹر مقامی قدرتی یورینیم استعمال کرتے تھے اور انہیں افزودگی کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔
ڈارلنگٹن منصوبے پر تعمیراتی کام جاری
اونٹاریو کے علاقے کلیرنگٹن میں ڈارلنگٹن نیو نیوکلیئر پراجیکٹ کے تحت چار جدید بی ڈبلیو آر ایکس 300 چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے پہلے ری ایکٹر کو 2030 کے اختتام تک قومی بجلی کے نظام سے منسلک کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ باقی تین ری ایکٹر اگلی دہائی کے وسط تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
یہ ری ایکٹر روایتی کینیڈین کینڈو ری ایکٹرز سے مختلف ہیں کیونکہ ان میں قدرتی یورینیم کے بجائے کم درجے کا افزودہ یورینیم استعمال ہوگا، جسے کینیڈا اس وقت خود تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
ایندھن کا سفر کئی ممالک سے گزرے گا
منصوبے کے مطابق ساسکاچیوان سے یورینیم نکالا جائے گا اور اونٹاریو میں اس کی ابتدائی پراسیسنگ کی جائے گی۔ اس کے بعد افزودگی کے لیے اسے امریکہ بھیجا جائے گا۔ فرانس اور برطانیہ کی کمپنیاں بھی افزودہ یورینیم کی ممکنہ سپلائرز ہوں گی جبکہ ایندھن کی حتمی اسمبلی امریکہ میں تیار کی جائے گی۔
یوں نئے ری ایکٹرز کے لیے ایندھن کی فراہمی کا اہم حصہ بیرونی ممالک پر منحصر ہوگا، جسے بعض ماہرین مستقبل کے لیے ایک حساس معاملہ قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین نے توانائی کی خودمختاری پر سوال اٹھا دیے
توانائی پالیسی کے ماہرین کے مطابق کینیڈا نے گزشتہ صدی میں کینڈو ری ایکٹرز اسی مقصد کے تحت تیار کیے تھے تاکہ ملک افزودہ یورینیم کے لیے بیرونی طاقتوں کا محتاج نہ رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نئے نظام میں افزودگی اور ایندھن کی تیاری جیسے اہم مراحل غیر ملکی اداروں کے سپرد کیے جا رہے ہیں جس سے مستقبل میں کسی سیاسی یا سفارتی کشیدگی کی صورت میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا مؤقف ہے کہ اگر عالمی حالات میں کشیدگی پیدا ہوئی یا کسی ملک نے برآمدات محدود کر دیں تو کینیڈا کے نئے ری ایکٹرز کی ایندھن سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
صوبائی حکومت کا مؤقف
اونٹاریو کے وزیر توانائی اسٹیفن لیکے کا کہنا ہے کہ صوبے نے بیرون ملک تیار کی گئی ٹیکنالوجی اس لیے منتخب کی کیونکہ اس وقت کینیڈا کے پاس ایسی کوئی تجارتی سطح کی چھوٹی جوہری ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی جو فوری طور پر بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو۔
مزید پڑھیں ؛
ان کے مطابق مختلف ممالک سے سپلائی کے انتظامات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ایک ذریعہ متاثر ہو تو دوسرے ذرائع سے ایندھن حاصل کیا جا سکے، جس سے رسد کا نظام زیادہ مضبوط رہے گا۔
وفاقی حکومت نے خدشات کم قرار دیے
کینیڈا کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں ان ری ایکٹرز کو نسبتاً کم مقدار میں افزودہ یورینیم درکار ہوگا اس لیے مختصر اور درمیانی مدت میں سپلائی کا کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آتا۔
حکام کے مطابق مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی حکومتوں اور صنعت کے اشتراک سے ایک خصوصی فورم قائم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ جوہری ایندھن کی طویل مدتی حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
چھوٹے ری ایکٹرز کی لاگت بھی زیر بحث
جوہری توانائی کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز روایتی بڑے ری ایکٹرز کے مقابلے میں فی یونٹ بجلی زیادہ مہنگی پیدا کر سکتے ہیں۔
اگرچہ ان ری ایکٹرز کے ڈیزائن تیار کرنے والی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے باعث تعمیراتی اور آپریشنل اخراجات میں کمی آئے گی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ منصوبہ ابھی عملی طور پر مکمل نہیں ہوا، اس لیے اس کے معاشی فوائد کا درست اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔
جوہری فضلے کا نیا چیلنج
ماہرین نے ایک اور اہم مسئلے کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا کا موجودہ جوہری فضلہ ٹھکانے لگانے کا منصوبہ روایتی کینڈو ری ایکٹرز کے استعمال شدہ ایندھن کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا تھا۔
اب نئے چھوٹے ری ایکٹرز سے پیدا ہونے والے استعمال شدہ ایندھن کی نوعیت اور مقدار مختلف ہو سکتی ہے، جس کے باعث مستقبل میں فضلہ محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کے لیے اضافی اخراجات اور نئی حکمت عملی کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
کیا کینیڈا خود افزودہ یورینیم تیار کرے گا؟
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کینیڈا واقعی مکمل جوہری خودمختاری حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کی صنعت قائم کرنا ہوگی۔ تاہم ایسا منصوبہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، سخت حفاظتی انتظامات، پیچیدہ قوانین اور بین الاقوامی نگرانی کا تقاضا کرے گا۔
اسی وجہ سے فی الحال حکومت نے اس سمت میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بیرونی سپلائرز پر انحصار فوری ضرورت تو پوری کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں کینیڈا کو اپنی توانائی کی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ مستقبل میں عالمی سیاسی تبدیلیوں کے اثرات سے بچا جا سکے۔