اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) روس کے خلاف جنگ کے محاذ پر خدمات انجام دینے والی یوکرین کی خواتین فوجیوں کے لیے پہلی بار خواتین کے جسمانی خدوخال کے مطابق تیار کیے گئے خصوصی باڈی آرمر کی آزمائش شروع کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے حفاظتی سازوسامان کا مقصد خواتین فوجیوں کو گولیوں، توپ خانے کے گولوں کے ٹکڑوں اور ڈرون حملوں سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس سلسلے میں برطانیہ نے یوکرین کو دو ہزار خصوصی باڈی آرمر سیٹ عطیہ کیے ہیں جن میں خواتین کے جسم کے مطابق تیار کی گئی خم دار حفاظتی پلیٹیں شامل ہیں۔ یہ پلیٹیں کینیڈین کمپنی این پی ایرو اسپیس نے تیار کی ہیں جبکہ انہیں پہننے کے لیے خصوصی جیکٹس بھی ایک کینیڈین ادارے نے تیار کی ہیں۔
ہزاروں خواتین مردوں کے لیے تیار کردہ آرمر استعمال کرنے پر مجبور
یوکرین کی رکن پارلیمنٹ ایرینا نائکوراک کے مطابق اس وقت ملک کی مسلح افواج میں پچھتر ہزار سے زائد خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں جن میں دس ہزار سے زیادہ براہ راست محاذ جنگ پر تعینات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
کینیڈا ،برٹش کولمبیا کے قصبے کلنٹن کو جنگلاتی آگ سے شدید خطرہ، مکینوں کا انخلا جاری
انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر خواتین اب تک مردوں کے لیے تیار کردہ حفاظتی پلیٹیں استعمال کر رہی ہیں جو ان کے جسم کے مطابق نہیں ہوتیں۔ یہ پلیٹیں زیادہ بھاری اور چوڑی ہونے کی وجہ سے سینے پر درست انداز میں فٹ نہیں بیٹھتیں، جس کے باعث بعض خواتین انہیں پہننے سے بھی گریز کرتی ہیں اور یوں ان کی جان کو مزید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین نے ملک کے دفاع کے لیے اپنے گھر، خاندان اور بچوں کو چھوڑا ہے، اس لیے انہیں ایسا حفاظتی سامان ملنا چاہیے جو ان کی ضروریات کے مطابق ہو۔
خاتون افسر نے عملی مشکلات بیان کر دیں
یوکرین کی نیشنل گارڈ کی ایک خاتون افسر، جنہیں فوجی قواعد کے مطابق صرف ان کے کال سائن "کودریاوا” سے شناخت کیا جاتا ہے، گزشتہ پندرہ برس سے فوج میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
انہوں نے مشرقی یوکرین کے متعدد اہم محاذوں پر لڑائی میں حصہ لیا جبکہ اس وقت وہ ڈرون آپریشنز، الیکٹرانک رابطوں اور دشمن کے سگنلز کو جام کرنے جیسے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
کودریاوا نے بتایا کہ جنگ کے ابتدائی ایک سال تک وہ مردوں کے لیے تیار کردہ باڈی آرمر استعمال کرتی رہیں، لیکن بعد میں اپنی سہولت کے لیے ذاتی خرچ پر مختلف حفاظتی سامان خریدنا پڑا۔
"باڈی آرمر دوسری جلد کی طرح ہونا چاہیے”
خاتون افسر کے مطابق جنگی لباس اور حفاظتی جیکٹ ایسی ہونی چاہیے جیسے وہ جسم کا حصہ ہو۔ اگر یہ آرام دہ نہ ہو تو فوجی کی توجہ اپنے مشن سے ہٹ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میدان جنگ میں سپاہی کو صرف اپنی جان بچانے، ساتھیوں کی حفاظت اور دیے گئے مشن کو مکمل کرنے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ بار بار اپنے لباس یا آرمر کو درست کرنے پر
ا نہوں نے کہا کہ درست سائز نہ ہونے کی صورت میں سینہ، گردن اور جسم کے دوسرے حساس حصے غیر محفوظ رہ جاتے ہیں، جو جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے نئے ڈیزائن کی افادیت بیان کر دی
کینیڈین کمپنی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین صرف جسمانی لحاظ سے چھوٹے قد کے مرد نہیں ہوتیں، اس لیے ان کے لیے حفاظتی سازوسامان بھی الگ انداز میں تیار کیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق روایتی سیدھی حفاظتی پلیٹ خواتین کے سینے پر پوری طرح فٹ نہیں بیٹھتی جس سے گردن اور جسم کے نچلے حصے کے قریب خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی خ لا گولی یا شیل کے ٹکڑوں کے جسم میں داخل ہونے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
مزید پڑھیں:
ڈی ڈے کے ہیرو اور کینیڈا کے قابل فخر سپاہی، 101 سالہ کیپٹن بل ولسن انتقال کرگئے
کمپنی کی تحقیق کے مطابق خواتین کے لیے تیار کی گئی خم دار پلیٹ جسم کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے چپک جاتی ہے اور روایتی پلیٹ کے مقابلے میں تقریباً 48 فیصد زیادہ تحفظ فراہم کرتی ہے۔
ڈرون حملوں کے دور میں زیادہ مؤثر تحفظ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کی موجودہ جنگ میں ڈرون حملے اور اوپر سے گرنے والے ہتھیار مسلسل بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ایسی صورتحال میں جسم اور آرمر کے درمیان معمولی سا خلا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ خواتین کے لیے تیار کیا گیا نیا ڈیزائن اس خلا کو نمایاں حد تک کم کر دیتا ہے۔
خواتین کے لیے مکمل جنگی سامان کی مہم
ایرینا نائکوراک کئی برسوں سے خواتین فوجیوں کے لیے مناسب حفاظتی سامان کی فراہمی کی مہم چلا رہی ہیں۔ ان کی تنظیم پہلے ہی سیکڑوں خواتین فوجیوں کو خصوصی باڈی آرمر، یونیفارم، جوتے اور دیگر ضروری سامان فراہم کر چکی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس خواتین کے جسمانی ساخت کے مطابق نئی وردیاں متعارف کرائی گئیں، تاہم اب بھی یونیفارم اور حفاظتی سامان کے متعدد حصے ایسے ہیں جنہیں خواتین کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا باقی ہے۔
دیگر ممالک کے لیے بھی مثال
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ خواتین آج مرد فوجیوں کے شانہ بشانہ ہر محاذ پر فرائض انجام دے رہی ہیں، اس لیے انہیں بھی مساوی تحفظ فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
ادھر کینیڈا کی وزارت دفاع بھی خواتین کے لیے نئے باڈی آرمر نظام پر کام کر رہی ہے، جس میں سینے کے حصے کے مطابق خصوصی ڈیزائن، نسبتاً چھوٹی حفاظتی پلیٹیں اور بہتر ساخت شامل ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین میں یہ تجربہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو یورپی ممالک، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر اتحادی ممالک بھی خواتین فوجیوں کے لیے اسی نوعیت کا حفاظتی سامان متعارف کرا سکتے ہیں، جس سے میدان جنگ میں خواتین اہلکاروں کی حفاظت اور کارکردگی دونوں میں بہتری آنے کی توقع ہے۔