اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) دولتِ مشترکہ کھیلوں میں کینیڈا کی ایتھلیٹکس ٹیم نے شاندار کارکردگی کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے خواتین کی چار ضرب 100 میٹر ریلے میں چاندی کا تمغہ اپنے نام کر لیا۔
مردوں کی چار ضرب 100 میٹر ریلے ٹیم کو بھی کامیاب اپیل کے بعد واپس چاندی کا تمغہ دے دیا گیا۔ ان کامیابیوں نے کینیڈین دستے کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں اور کھلاڑی مستقبل میں مزید بڑی کامیابیوں کے لیے پُرعزم نظر آ رہے ہیں۔
خواتین ریلے ٹیم نے ایک بار پھر صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا
آڈری لیڈک، سیڈ میکریتھ، فریڈرک شیاسوں اور میری ایلویز لیکلیئر پر مشتمل کینیڈا کی خواتین ریلے ٹیم نے چار ضرب 100 میٹر مقابلے میں شاندار دوڑ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔
تمغہ جیتنے کے بعد ٹیم کی رکن آڈری لیڈک نے کہا کہ انہیں اب اپنی ٹیم کی صلاحیتوں پر پہلے سے کہیں زیادہ اعتماد ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ جس بھی کھلاڑی کو ریلے ٹیم میں شامل کیا جائے وہ تمغہ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سال میں ٹیم نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر مسلسل عمدہ نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بوٹسوانا کے بعد ایک اور بڑی کامیابی
کینیڈا کی خواتین ریلے ٹیم اس سے قبل مئی میں بوٹسوانا میں ہونے والے عالمی ایتھلیٹکس ریلے مقابلوں میں بھی چاندی کا تمغہ جیت چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں :
ٹورنٹو پولیس کی بڑی کامیابی، ورلڈ کپ سے قبل جعلی کھیلوں کی مصنوعات کا بڑا ذخیرہ پکڑا گیا
کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل دو بڑے عالمی مقابلوں میں پوڈیم تک رسائی اس بات کا ثبوت ہے کہ کینیڈا کا خواتین ریلے پروگرام مضبوط بنیادوں پر استوار ہو چکا ہے۔
آڈری لیڈک نے اس کامیابی کو صرف ایک آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے برسوں میں بھی ٹیم سے اسی طرح کی کارکردگی کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔
مردوں کی ٹیم کو اپیل کے بعد بڑی خوشخبری
دوسری جانب مردوں کی چار ضرب 100 میٹر ریلے ٹیم کے لیے بھی خوشخبری سامنے آئی جب حکام نے کینیڈا کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں دوبارہ چاندی کا تمغہ دے دیا۔
ابتدائی طور پر ٹیم کو ریس کے دوران لین کی خلاف ورزی کے الزام میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ یہ معاملہ ابتدائی رنر ایرن براؤن اور دوسرے رنر جیروم بلیک کے درمیان بیٹن کی منتقلی کے دوران پیش آیا تھا۔
بعد ازاں کینیڈین ٹیم کے حکام نے فیصلے کے خلاف باضابطہ اپیل دائر کی، جسے منظور کرتے ہوئے نااہلی ختم کر دی گئی اور ٹیم کی دوسری پوزیشن بحال کر دی گئی۔
اس فیصلے کے بعد آسٹریلیا سونے کے تمغے پر برقرار رہا جبکہ نائیجیریا نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
خوشی کا ماحول
تمغہ بحال ہونے کے بعد کینیڈین کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ حکام نے اس فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپیل کے ذریعے اصل نتائج بحال ہونا کھلاڑیوں کی محنت کا اعتراف ہے۔
کھیلوں کے مبصرین کے مطابق اس طرح کے فیصلے شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتے ہیں کیونکہ اکثر نااہلی کے بعد تمغے واپس نہیں ملتے، تاہم اس بار اپیل کامیاب ثابت ہوئی۔
آخری روز کینیڈا کی مجموعی کارکردگی
ایتھلیٹکس مقابلوں کے آخری روز خواتین کی ایک میل دوڑ میں کینیڈا کی لوشیا اسٹافورڈ تمغہ حاصل کرنے سے معمولی فرق سے محروم رہیں اور چوتھی پوزیشن پر رہیں۔
انہوں نے چار منٹ 40 اعشاریہ 46 سیکنڈ میں دوڑ مکمل کی اور زیادہ تر مقابلے میں سبقت برقرار رکھی، تاہم اختتامی لمحات میں آسٹریلیا کی تین ایتھلیٹس نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا۔
مزید پڑھیں :
مونٹریال میں طوفانی ہواؤں سے کھیل کا ڈھانچہ ہوا میں بلند، بچوں سمیت 6 افراد زخمی
آسٹریلیا کی ایبی کالڈویل نے طلائی تمغہ جیتا جبکہ ان کی ہم وطن جیسیکا ہل نے چاندی اور کلاڈیا ہولنگز ورتھ نے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ کینیڈا کی دوسری ایتھلیٹ سیمون پلورڈ بارہ کھلاڑیوں میں گیارہویں نمبر پر رہیں۔
16 تمغوں کے ساتھ مہم کا اختتام
کینیڈا نے ایتھلیٹکس اور پیرا ایتھلیٹکس مقابلوں میں مجموعی طور پر 16 تمغے حاصل کیے جن میں چار طلائی، سات چاندی اور پانچ کانسی کے تمغے شامل ہیں۔