ابتدائی عمر میں چینی کا زیادہ استعمال کس بیماری کا سبب بن سکتا ہے ، نئی تحقیق

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر بچوں کو زندگی کے ابتدائی دو برسوں میں اضافی چینی کم یا بالکل نہ دی جائے تو بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا (یادداشت کی کمزوری) کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔

طبی جریدے Neurology میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ایسے افراد جنہیں ماں کے حمل کے دوران اور پیدائش کے بعد ابتدائی دو سالوں میں کم مقدار میں چینی میسر آئی، ان میں بڑھاپے میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 23 فیصد کم ریکارڈ کیا گیا۔
ابتدائی دو سال دماغی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہے ۔

یہ بھی پڑھیں :

موسمِ گرما سے قبل کیوبیک کا محکمۂ صحت الرٹ، طبی خدمات کی بندش روکنے کے لیے ہنگامی منصوبے فعال

محققین کے مطابق زندگی کے ابتدائی دو سال دماغ کی نشوونما کا حساس ترین دور ہوتے ہیں۔ اس عرصے میں متوازن غذا اور اضافی چینی سے پرہیز نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی دیرپا مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر جیاژین ژینگ، جو ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی عمر میں چینی کا استعمال محدود رکھنے سے مستقبل میں دماغی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
زیادہ چینی اور دماغی بیماریوں کا تعلق
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ چینی کا استعمال پہلے ہی ٹائپ ٹو ذیابیطس، موٹاپے اور دل کی بیماریوں سے جوڑا جاتا ہے۔ ذیابیطس خون کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے دماغ تک خون کی مناسب فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تحقیق سے یہ امکان بھی سامنے آیا ہے کہ زندگی کے ابتدائی برسوں میں چینی کا محدود استعمال دماغ کو ان نقصانات سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
مزید تحقیق کی ضرورت برقرار
محققین نے واضح کیا کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم یہ تحقیق صرف ایک تعلق (Association) ظاہر کرتی ہے اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف چینی ہی ڈیمنشیا کی وجہ بنتی ہے۔

مزید پڑھیں :

البرٹا میں صحت کے شعبے کی بڑی کامیابی، ایک سال میں 1,226 نئے ڈاکٹر شامل

ماہرین کے مطابق اس تعلق کی مکمل تصدیق کے لیے مختلف ممالک اور آبادیوں پر مزید طبی اور سائنسی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
ماہرین والدین کو کیا مشورہ دیتے ہیں؟

صحت کے ماہرین پہلے ہی سفارش کرتے ہیں کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو اضافی چینی (Added Sugar) والی غذائیں، جیسے مٹھائیاں، سافٹ ڈرنکس، میٹھے بسکٹ، چاکلیٹ اور مصنوعی جوس نہ دیے جائیں۔

اس کے بجائے بچوں کو پھل، سبزیاں، دودھ اور دیگر قدرتی غذائیں فراہم کی جائیں تاکہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما بہتر انداز میں ہو سکے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں