کینیڈا کا اپنی بحری طاقت کو جدید بنانے کے لیے اربوں ڈالر کے نئے آبدوز منصوبے کا اعلان

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا نے اپنی بحری طاقت کو جدید بنانے کے لیے اربوں ڈالر کے نئے آبدوز منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی کے مطابق ملک کی آئندہ آبدوز بیڑا ساحلی علاقوں اور سمندری حدود کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

کینیڈا نے نئی آبدوزوں کے لیے جرمنی کی کمپنی ThyssenKrupp Marine Systems کو ترجیحی بولی دہندہ منتخب کیا ہے۔ منصوبے کے تحت کینیڈا کی بحریہ کو جدید ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں فراہم کی جائیں گی جو موجودہ وکٹوریہ کلاس آبدوزوں کی جگہ لیں گی۔

تین سمندروں کی نگرانی

ریٹائرڈ وائس ایڈمرل ڈیرن ہاکو کے مطابق کینیڈا کے پاس بحر اوقیانوس، بحرالکاہل اور آرکٹک سمندر کی ذمہ داریاں ہیں، اس لیے جدید آبدوزیں ملک کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ ہوں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ آبدوزیں صرف کینیڈا کے ساحلوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ عالمی سطح پر بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ممکنہ طور پر انہیں تائیوان آبنائے، بحیرہ جنوبی چین، بحیرہ روم اور بالٹک جیسے حساس علاقوں میں نگرانی کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔

زیر سمندر تنصیبات کا تحفظ

نئی آبدوزوں کا ایک اہم کام سمندر کے اندر موجود حساس تنصیبات کا تحفظ بھی ہوگا۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 90 فیصد ٹیلی کمیونیکیشن ٹریفک سمندر کی تہہ میں موجود فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے چلتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈا کے نئے جوہری منصوبے میں غیر ملکی انحصار، توانائی خودمختاری پر سوالات

کینیڈا کے سابق بحری سربراہ مارک نارمن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ عالمی مواصلات سیٹلائٹ کے ذریعے ہوتے ہیں، حالانکہ سمندری کیبلز انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

یوکرین جنگ کے ابتدائی دنوں میں زیر سمندر انفراسٹرکچر کی کمزوری بھی سامنے آئی، جس کے بعد کئی ممالک نے اس شعبے پر زیادہ توجہ دینا شروع کردی۔

آرکٹک میں بڑھتا مقابلہ

کینیڈا کے لیے آرکٹک خطہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ڈیرن ہاکو کے مطابق شمالی قطب میں کینیڈا اور روس کے زیر سمندر دعوے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس کے لیے کینیڈا کے زمینی علاقوں پر قبضہ کرنا شاید کم فائدہ مند ہو، لیکن سمندر کی تہہ میں موجود وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ایک بڑا مقصد ہوسکتا ہے۔

انہوں نے آرکٹک میں موجود لومونوسوف رج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور کئی ممالک اس پر دعوے رکھتے ہیں۔

معدنی وسائل کی حفاظت

ماہرین کے مطابق سمندر کی تہہ میں موجود نایاب معدنیات مستقبل میں بڑی معاشی اہمیت رکھتی ہیں۔ جاپان سمیت کئی ممالک نے سمندر سے قیمتی معدنی وسائل دریافت کیے ہیں۔

کینیڈا بھی اپنی سمندری حدود میں موجود قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے آبدوزوں کے ساتھ ساتھ زیر سمندر سینسرز اور ڈرونز کا نظام بھی تیار کیا جائے گا۔

خفیہ نگرانی کا کردار

نئی آبدوزوں کا ایک بڑا مقصد خفیہ نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنا ہوگا۔ سابق بحری افسران کے مطابق یہ آبدوزیں دشمن کے جہازوں، آبدوزوں اور زمینی اہداف کی نگرانی کرسکیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں آبدوزیں زیر سمندر ڈرونز کے ساتھ مل کر کام کریں گی، تاہم ڈرون ٹیکنالوجی آبدوزوں کی اہمیت ختم نہیں کرے گی کیونکہ ان کی اصل طاقت خفیہ رہنے کی صلاحیت ہے۔

خاموش طاقت کا فائدہ

ماہرین کے مطابق جدید آبدوزوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا خاموش رہنا ہے۔ خلا سے نگرانی کے جدید نظام کے باوجود سمندر کی گہرائی میں موجود آبدوز کو تلاش کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

مارک نارمن کے مطابق دشمن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اسے معلوم ہو کہ آبدوز کہیں موجود ہے، لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے۔یہی غیر یقینی صورتحال کسی بھی مخالف ملک کے لیے بڑی مشکل پیدا کرتی ہے۔

میزائل صلاحیت کا فیصلہ

کینیڈا نے جرمنی کی 212CD آبدوز کو جنوبی کوریا کی بڑی KSS-III آبدوز پر ترجیح دی۔ اس فیصلے میں دفاعی ضرورتوں کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی عوامل بھی شامل تھے۔

212CD آبدوزیں ٹارپیڈو کے علاوہ کروز میزائل بھی استعمال کرسکیں گی، تاہم کینیڈا نے ایسی آبدوز کا انتخاب نہیں کیا جو انتہائی طاقتور اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر جنگ کا توازن بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

کینیڈا کی نئی آبدوزیں ممکنہ طور پر 2034 تک تیار ہوں گی اور ان پر آنے والی لاگت کئی ارب ڈالر ہوگی۔ یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ کینیڈا مستقبل میں سمندری دفاع، آرکٹک نگرانی اور عالمی سکیورٹی میں اپنا کردار بڑھانا چاہتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں