اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی ایئرلائن ویسٹ جیٹ (WestJet) کے 4 ہزار 287 فضائی میزبانوں کی اتوار کی رات ہڑتال کے بعد ملک بھر میں سفری نظام شدید متاثر ہوگیا۔ ہڑتال کے باعث اب تک تقریباً 600 پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں، جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں۔ متعدد افراد بیرون ملک پھنس گئے جبکہ کئی خاندانوں کو اپنی تعطیلات اور اہم سفری منصوبے منسوخ کرنا پڑے۔
مذاکرات جاری
ویسٹ جیٹ اور کینیڈین یونین آف پبلک ایمپلائز (CUPE) کے درمیان کیلگری میں مذاکرات جاری ہیں، تاہم دونوں فریقوں کی جانب سے پیش رفت کے بارے میں محدود معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ ہڑتال ایسے وقت میں ہوئی ہے جب طویل تعطیلات کے باعث یہ سال کے مصروف ترین سفری اوقات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
مسافروں کی پریشانی
پروازوں کی منسوخی کے بعد مسافروں کو متبادل پروازوں، ہوٹلوں اور دیگر سفری انتظامات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی افراد نے شکایت کی کہ انہیں ویسٹ جیٹ سے واضح معلومات نہیں مل رہیں اور کسٹمر سروس سے رابطہ بھی انتہائی دشوار ہے۔
تاہم، مشکلات کے باوجود متعدد مسافروں نے ہڑتالی فضائی میزبانوں کے مطالبات کی حمایت بھی کی۔ ییلو نائف کی رہائشی روبن اسکاٹ نے کہا کہ فضائی میزبانوں کے مطالبات مناسب ہیں اور انہیں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔
ہزاروں ڈالر کا نقصان
اونٹاریو کے رہائشی انوج دھون، جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ سینٹ مارٹن میں چھٹیاں گزار رہے تھے، نے بتایا کہ واپسی کی پرواز اچانک منسوخ ہونے کے بعد انہیں نیا ہوٹل، کرائے کی گاڑی میں توسیع اور دوسری ایئرلائن سے مہنگی ٹکٹ خریدنا پڑی۔
ان کے مطابق انہیں مجموعی طور پر تقریباً 5 سے 6 ہزار کینیڈین ڈالر کا اضافی نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ انہیں اپنی والدہ کی دیکھ بھال کے انتظامات پر بھی تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ویسٹ جیٹ اور ملازمین میں معاہدہ نہ ہو سکا،ہزاروں فضائی میزبانوں نے کام چھوڑ دیا،پروازیں منسوخ
اسی طرح جاڈا یی، جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ جاپان جانے کے لیے کیلگری پہنچے تھے، کا کہنا ہے کہ اگر ان کی نئی پرواز بھی منسوخ ہوگئی تو انہیں تقریباً 8 ہزار کینیڈین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
ایئرپورٹس کی ہدایت
ملک کے بڑے ہوائی اڈوں نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ معلومات یا متبادل انتظامات کے لیے براہ راست ویسٹ جیٹ سے رابطہ کریں اور ایئرپورٹس کا رخ نہ کریں، کیونکہ وہاں فوری مدد فراہم نہیں کی جا سکتی۔
تنازع کی وجہ
ہڑتال کی بنیادی وجہ فضائی میزبانوں کا تنخواہوں کا نظام ہے۔ یونین کا مؤقف ہے کہ پرواز سے قبل زمین پر انجام دی جانے والی متعدد ذمہ داریوں کا انہیں الگ سے معاوضہ نہیں دیا جاتا، جس کے باعث ملازمین کو بلا معاوضہ کام کرنا پڑتا ہے۔
دوسری جانب ویسٹ جیٹ نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا "کریڈٹ آور” نظام پرواز کے وقت، زمینی ذمہ داریوں، تاخیر اور دیگر کاموں کو ایک جامع اجرتی نظام کے تحت شمار کرتا ہے، جس کے باعث ملازمین کو مجموعی طور پر بہتر معاوضہ ملتا ہے۔
حکومتی کردار
لیبر امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہڑتال مزید ایک یا دو دن جاری رہی تو وفاقی حکومت مداخلت کر سکتی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق حکومت کینیڈین لیبر کوڈ کی شق 107 کے تحت فریقین کو کام پر واپس آنے کا حکم بھی دے سکتی ہے، تاہم ایسی مداخلت اجتماعی سودے بازی کے نظام پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
وفاقی وزیر روزگار پیٹی ہائیڈو نے ہڑتال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی ثالث مسلسل دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جلد کسی حل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ مسافروں کی مشکلات کم کی جا سکیں۔