اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تنازع زیادہ طویل نہیں چل سکے گا کیونکہ ایران مسلسل جنگ کا بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے صورتحال جلد ختم ہو جائے گی۔ ان کے مطابق ایران کے لیے طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنا مشکل ہوگا۔تاہم ٹرمپ کے اس بیان نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ موجودہ کشیدگی کا اصل رخ کیا ہوگا اور کیا دونوں ممالک کے درمیان فوجی دباؤ کے باوجود کوئی سفارتی راستہ نکل سکتا ہے۔
امریکی صدر کا اعتماد اور حقیقت
ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکا فوجی طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں کے باعث مضبوط پوزیشن میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس طویل جنگ جاری رکھنے کے لیے محدود وسائل ہیں۔
لیکن دوسری جانب جنگی ماہرین کے مطابق کسی بھی تنازع کا نتیجہ صرف ہتھیاروں کی تعداد سے طے نہیں ہوتا بلکہ معاشی طاقت، اتحادی ممالک کی حمایت، فوجی حکمت عملی اور سیاسی فیصلے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ایران ماضی میں بھی طویل دباؤ اور پابندیوں کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔
امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کا مسئلہ
ٹرمپ نے گفتگو کے دوران یہ اعتراف بھی کیا کہ امریکی فوج کو بعض مخصوص ہتھیاروں کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید ہتھیاروں کے ذخائر لامحدود نہیں ہوتے، بعض اقسام کے ہتھیاروں کی مقدار محدود ہے، تاہم امریکا دفاعی پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا مختلف عالمی تنازعات میں اپنے فوجی وسائل کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔
پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائلوں کی تیاری
امریکی حکام کے مطابق دفاعی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔خصوصاً پیٹریاٹ دفاعی نظام اور ٹوماہاک کروز میزائلوں سمیت دیگر جدید ہتھیاروں کی تیاری کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق جدید جنگوں میں صرف فوج کی تعداد نہیں بلکہ میزائل، ڈرونز، دفاعی نظام اور جدید ٹیکنالوجی فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔
ایران پر دباؤ کی حکمت عملی
امریکا طویل عرصے سے ایران پر سیاسی اور معاشی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف رہا ہے کہ ایران کی علاقائی سرگرمیاں اور جوہری پروگرام عالمی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام ملکی سلامتی کے لیے ہے۔حالیہ جنگی صورتحال نے ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان پرانے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
کیا جنگ کا اختتام قریب ہے؟
ٹرمپ کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکا ایران پر دباؤ بڑھا کر کسی فوری نتیجے تک پہنچنا چاہتا ہے، تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے ممالک کے درمیان تنازعات کا اختتام اکثر پیچیدہ مذاکرات کے ذریعے ہوتا ہے۔اگرچہ فوجی طاقت ایک اہم عنصر ہے، لیکن جنگ کے سیاسی اور معاشی اثرات بھی فیصلہ کن ہوتے ہیں۔
عالمی تشویش میں اضافہ
ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ مشرق وسطیٰ، عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے عالمی برادری مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور سفارتی حل کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ٹرمپ کا تازہ بیان امریکی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق اعتراف یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید جنگیں صرف طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ وسائل، منصوبہ بندی اور طویل المدتی حکمت عملی کا امتحان بھی ہوتی ہیں۔