عالمی منڈی میں تیل سستا، پاکستان میں معمولی ریلیف کیوں؟ پٹرولیم قیمتوں کے پیچھے چھپی حقیقت

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو محدود ریلیف فراہم کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 50 پیسے فی لٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 382 روپے 36 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

اسی طرح پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 19 پیسے فی لٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 329 روپے 82 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے کر دیا گیا ہے اور یہ قیمتیں اگلے پندرہ روز کے لیے نافذ العمل رہیں گی۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں جب خام تیل سستا ہوتا ہے تو عام طور پر توقع کی جاتی ہے کہ اس کا براہ راست فائدہ صارفین تک پہنچے گا، لیکن پاکستان میں پٹرولیم قیمتوں میں کمی اکثر محدود رہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عوام کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ہو رہی ہے تو پاکستان میں پٹرول چند روپے ہی کیوں سستا ہوتا ہے؟

قیمتوں میں فرق کی اصل وجہ

ماہرین کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی قیمت صرف عالمی خام تیل کی قیمت کے مطابق طے نہیں ہوتی بلکہ اس میں کئی دیگر عوامل شامل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :عوام کے لیے ریلیف،پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا گیا

ان عوامل میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، درآمدی اخراجات، پٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز شامل ہیں۔

یعنی اگر عالمی مارکیٹ میں تیل سستا بھی ہو جائے تو ضروری نہیں کہ اس کا پورا فائدہ صارفین کو منتقل ہو جائے، کیونکہ مقامی قیمتوں میں دیگر اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔

پٹرولیم لیوی کا کردار

پاکستان میں حکومت پٹرولیم مصنوعات پر پٹرولیم لیوی بھی وصول کرتی ہے، جو قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اگر عالمی سطح پر قیمتیں کم ہوں لیکن حکومت ریونیو برقرار رکھنے کے لیے لیوی میں تبدیلی نہ کرے تو صارفین کو ملنے والا ریلیف محدود ہو سکتا ہے۔اسی وجہ سے ماضی میں بھی کئی مواقع پر عالمی مارکیٹ میں کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔

روپے اور ڈالر کا اثر

پاکستان چونکہ اپنی ضرورت کا بڑا حصہ پٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے، اس لیے ڈالر کی قیمت بھی پٹرولیم نرخوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔اگر عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہو لیکن روپے کی قدر میں کمی ہو جائے تو درآمدی لاگت کم نہیں ہوتی۔ماہرین کے مطابق پٹرولیم قیمتوں میں اصل کمی کے لیے عالمی قیمتوں کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کی صورتحال بھی بہتر ہونا ضروری ہے۔

عوام کو کتنا فائدہ ملے گا؟

حالیہ کمی سے اگرچہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں چند روپے کمی ہوئی ہے، لیکن مہنگائی سے متاثرہ عوام کے لیے یہ ریلیف محدود محسوس ہو سکتا ہے۔خاص طور پر ٹرانسپورٹ، بجلی پیداوار، صنعت اور زرعی شعبہ پٹرولیم قیمتوں سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔اگر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہو تو اس کے اثرات اشیائے خورونوش اور دیگر شعبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

آگے کیا توقع ہے؟

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کا رجحان، ڈالر کی قدر اور حکومتی ٹیکس پالیسی آئندہ پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں ردوبدل عالمی مارکیٹ اور اوگرا کی سفارشات کے مطابق کیا جاتا ہے، جبکہ عوام کی توقع ہے کہ عالمی سطح پر آنے والی کمی کا زیادہ فائدہ براہ راست انہیں منتقل کیا جائے۔

موجودہ صورتحال یہی ظاہر کرتی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں قیمتوں میں کمی کئی اندرونی عوامل سے گزر کر صارف تک پہنچتی ہے، اسی لیے عالمی کمی اور مقامی ریلیف میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں