اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز) نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انسان کی کچھ ایسی یادیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بظاہر مکمل طور پر ختم یا فراموش ہوچکی ہوتی ہیں ۔
ممکن ہے دماغ سے حقیقتاً مٹتی نہ ہوں بلکہ ایک خاموش حالت میں محفوظ رہتی ہوں۔ ماہرین کے مطابق مناسب ماحول، مخصوص اشارے یا کسی خاص یاددہانی کے ذریعے ان یادوں کو دوبارہ فعال کیا جاسکتا ہے۔
سائنس دانوں نے اس حوالے سے پھلوں کی مکھیوں پر تجربات کیے، جن سے انہیں دماغ میں یادداشت کے محفوظ رہنے اور دوبارہ متحرک ہونے کے عمل کو سمجھنے میں مدد ملی۔ تحقیق کے نتائج نے اس تصور کو تقویت دی ہے کہ بعض یادیں وقت گزرنے کے ساتھ مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے ایسی حالت میں منتقل ہوسکتی ہیں جہاں انہیں عام حالات میں یاد کرنا ممکن نہیں رہتا۔
یادیں کہاں جاتی ہیں؟
ماہرین کے مطابق انسانی دماغ میں یادداشت کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے۔ انسان روزانہ بے شمار مناظر، آوازیں، خوشبوئیں، گفتگو اور تجربات اپنے ذہن میں محفوظ کرتا ہے، تاہم ان میں سے ہر یاد ہمیشہ واضح طور پر یاد نہیں رہتی۔
یہ بھی پڑھیں :
چلتے جسم کا چلتا دماغ، فٹنس کیسے ذہن کو ’جوان‘ رکھتی ہے؟
کچھ یادیں وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہیں جبکہ بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان طویل عرصے تک یاد نہیں کرپاتا۔ تاہم کسی خاص جگہ پر جانے، کوئی پرانی تصویر دیکھنے، مخصوص خوشبو محسوس کرنے یا کوئی آواز سننے کے بعد اچانک برسوں پرانی یاد ذہن میں واپس آسکتی ہے۔
پھلوں کی مکھیوں پر تجربہ
سائنس دانوں نے یادداشت کے اسی پہلو کو سمجھنے کے لیے پھلوں کی مکھیوں پر تجربات کیے۔ تجربے کے دوران مکھیوں کو ایک مخصوص ماحولیاتی ماحول میں ایسا تجربہ فراہم کیا گیا جس سے ایک یاد تشکیل پائی۔
بعد ازاں جب انہیں اس ماحول سے دور کیا گیا تو وقت گزرنے کے ساتھ اس یاد کو فعال طور پر یاد کرنے کی صلاحیت کم ہوگئی۔ تاہم جب مکھیوں کو دوبارہ اسی یا اس سے ملتے جلتے ماحول میں رکھا گیا جس میں ابتدائی یاد تشکیل پائی تھی تو وہ یاد دوبارہ فعال ہونے کے آثار ظاہر کرنے لگیں۔
ماحول یادداشت کو دوبارہ جگا سکتا ہے
تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ یادداشت کو دوبارہ فعال کرنے میں ماحول کا کردار اہم ہوسکتا ہے۔ جس جگہ یا ماحول میں کوئی تجربہ پیش آیا ہو، اس سے ملتے جلتے اشارے مستقبل میں اس تجربے سے وابستہ یاد کو دوبارہ متحرک کرسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ بعض اوقات انسان کسی پرانی جگہ پر پہنچتے ہی اپنے ماضی کے ایسے واقعات یاد کرنے لگتا ہے جن کے بارے میں اسے طویل عرصے سے کچھ یاد نہیں تھا۔
خوشبو اور آواز بھی اہم اشارے ہوسکتے ہیں
تحقیق کے نتائج انسانی تجربات سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی مخصوص خوشبو سے بچپن کی یاد اچانک تازہ ہوجانا، کسی پرانے گانے سے ماضی کا واقعہ یاد آنا یا کسی مقام پر پہنچ کر برسوں پرانی تفصیل ذہن میں واپس آ جانا اس بات کی مثالیں ہیں کہ بیرونی اشارے یادداشت کو متحرک کرسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں :
خون میں پلاسٹک! دل کی بیماریوں سے متعلق تحقیق نے دنیا کو چونکا دیا
ماہرین کے مطابق دماغ مختلف یادوں کو صرف واقعے کی صورت میں محفوظ نہیں کرتا بلکہ ان کے ساتھ ماحول، احساسات اور دیگر حسی معلومات بھی منسلک ہوسکتی ہیں۔
بھول جانا ہمیشہ مٹ جانا نہیں
تحقیق سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی واقعے کو یاد نہ کر پانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ یاد دماغ سے ختم ہوچکی ہے؟ سائنس دانوں کے مطابق ضروری نہیں۔
ممکن ہے کچھ یادیں دماغ میں موجود ہوں لیکن انہیں دوبارہ حاصل کرنے کے لیے مناسب اشارے یا حالات دستیاب نہ ہوں۔ اس صورت میں یادداشت بظاہر غائب محسوس ہوتی ہے، حالانکہ اس کے کچھ آثار دماغ میں موجود رہ سکتے ہیں۔
انسانی یادداشت کو سمجھنے میں اہم پیش رفت
ماہرین کا کہنا ہے کہ یادداشت کے اس پیچیدہ نظام کو سمجھنے سے مستقبل میں دماغی افعال اور یادداشت سے متعلق مختلف مسائل پر تحقیق میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم پھلوں کی مکھیوں پر ہونے والے تجربات کے نتائج کو براہ راست انسانوں پر لاگو کرنے سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی۔
نئی تحقیق نے بہرحال اس خیال کو تقویت دی ہے کہ دماغ میں محفوظ ہر یاد لازماً مستقل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ بعض یادیں خاموش حالت میں رہ سکتی ہیں اور مناسب ماحول یا مخصوص یاددہانی ملنے پر دوبارہ ذہن کی سطح پر آسکتی ہیں۔