مس یونیورس کینیڈا مقابلے میں ثقافتی تضحیک پر تنازع، ایشلے کالنگ بُل نے اسٹیج پر آواز اٹھا دی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں مس یونیورس کینیڈا 2026 کے مقابلے کے دوران مقامی ثقافت کی مبینہ غلط نمائندگی اور ثقافتی appropriation پر تنازع کھڑا ہوگیا، جس کے بعد سابق مس یونیورس کینیڈا فاتح اور مقابلے کی میزبان ایشلے کالنگ بُل نے اسٹیج پر اپنی میزبانی روک کر معاملے پر کھل کر بات کی۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقابلے کے ڈائریکٹر سونی بوریلی ٹاپ 20 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرنے والے تھے۔ ایشلے کالنگ بُل نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حاضرین سے خطاب کیا اور کہا کہ بعض اوقات غلطیاں ہوجاتی ہیں، تاہم 2026 میں لوگوں کو بہتر طور پر سمجھنا چاہیے کہ ایسی غلطیوں سے کیسے بچا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مفاہمت کے عمل کا ایک اہم حصہ تعلیم حاصل کرنا، سیکھنا، سمجھنا اور غلطیوں سے آگے بڑھنا ہے۔

متنازع ملبوسات

4 اگست کو ونڈسر، اونٹاریو میں مس یونیورس کینیڈا کے قومی لباس کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں 35 امیدواروں نے شرکت کی۔

مقابلے کے دوران امیدوار کاریسا ہیورکیمپ نے فیروزی، سیاہ اور سفید پروں سے بنا ہوا ایک ہیڈ ڈریس پہن کر اسٹیج پر واک کی۔ اس کے گال پر سرخ رنگ سے ہاتھ کا نشان بھی بنایا گیا تھا۔

ایک اور امیدوار جسلین کیلی نے ’’آرکٹک بیوٹی‘‘ کے نام سے لباس پیش کیا، جس میں ٹانگوں کے اطراف بھورے رنگ کے جھالر، دو چوٹیاں اور پشت پر میپل لیف کا کٹ آؤٹ شامل تھا۔ان ملبوسات پر مقامی اور Indigenous کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

کالنگ بُل کا ردعمل

ایشلے کالنگ بُل نے CBC Indigenous سے گفتگو میں کہا کہ ملبوسات دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں اور انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسا لباس مقابلے کے اسٹیج پر کیسے پیش کیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان ملبوسات کو کس نے منظور کیا اور کس نے انہیں اسٹیج پر آنے کی اجازت دی۔کالنگ بُل نے واضح کیا کہ روایتی یا مقدس ثقافتی اشیا کو فیشن یا تفریحی لباس کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور وہ اس صورتحال پر انتہائی پریشان تھیں۔

اسٹیج پر معذرت

کالنگ بُل نے اسٹیج پر منتظمین سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سونی بوریلی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں لباس سے متعلق واضح رہنما اصول متعارف کرائے جائیں گے اور ثقافتی رابطہ کار بھی مقرر کیے جائیں گے۔

بوریلی نے Indigenous کمیونٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کسی کو ناراض کرنا منتظمین کا مقصد نہیں تھا، تاہم اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اس واقعے سے سیکھیں گے۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ کالنگ بُل آئندہ مقابلوں میں ثقافتی رابطہ کار کے طور پر کردار ادا کریں گی۔

Indigenous خواتین کی تنقید

مس ورلڈ کینیڈا 2022 ایما موریسن نے بھی ملبوسات کو ثقافتی طور پر نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں Indigenous افراد کو نامناسب اور جنسی انداز میں پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :ٹیلر سوئفٹ بمقابلہ ٹرمپ،گانوں کے استعمال پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا

موریسن نے ہیورکیمپ کے چہرے پر بنائے گئے ہاتھ کے نشان پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ Missing and Murdered Indigenous Women and Girls یعنی MMIWG کی علامت کی نمائندگی کرتا ہے۔

ان کے مطابق کسی بیوٹی مقابلے کے اسٹیج پر، جہاں امیدوار ججز کے سامنے مسکرا رہی ہوں، اس طرح کا حساس پیغام پیش کرنا مناسب نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ جس اسٹیج پر دو سال قبل ایشلے کالنگ بُل کو سراہا گیا تھا، اسی اسٹیج پر Indigenous ثقافت کی بے توقیری ہوئی، جس کی بنیادی وجہ ان کے خیال میں Indigenous ثقافت کے بارے میں تعلیم کی کمی ہے۔

ایشلے کالنگ بُل کا پس منظر

ایشلے کالنگ بُل Plains Cree ہیں اور البرٹا کی Enoch Cree Nation سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ 2015 میں Mrs. Universe کا تاج جیتنے والی پہلی کینیڈین اور پہلی Indigenous خاتون بھی بنی تھیں۔

وہ ماڈلنگ، اداکاری اور میزبانی کے شعبوں میں Indigenous افراد کی درست اور باعزت نمائندگی کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں۔کالنگ بُل کے مطابق انہوں نے متنازع ملبوسات دیکھتے ہی منتظمین سے رابطہ کیا، جنہوں نے اپنی لاعلمی تسلیم کرتے ہوئے معذرت کی۔

منتظمین کی نئی پالیسی

مس یونیورس کینیڈا نے جمعے کو جاری بیان میں کہا کہ اگر کسی لباس سے کسی کو تکلیف، دکھ یا غلط فہمی ہوئی تو یہ منتظمین کا مقصد نہیں تھا۔تاہم ناقدین نے نشاندہی کی کہ بیان میں براہ راست معذرت شامل نہیں تھی۔

منتظمین نے بعد میں اعلان کیا کہ مستقبل کے مقابلوں کے لیے ایک جامع کاسٹیوم گائیڈ تیار کی جارہی ہے، جس میں لباس کے حوالے سے واضح اصول اور معیار طے کیے جائیں گے۔

امیدواروں کی معذرت

کاریسا ہیورکیمپ نے انسٹاگرام پر اپنے لباس سے Indigenous کمیونٹی کو پہنچنے والی تکلیف اور ناراضی کو تسلیم کیا اور کہا کہ انہوں نے اس واقعے سے سیکھا ہے۔

جسلین کیلی نے بھی معذرت کرتے ہوئے کہا کہ Indigenous ثقافت کی بے توقیری یا غلط نمائندگی ان کا مقصد نہیں تھا۔ ان کے مطابق لباس تیار کرتے وقت وہ کینیڈا کے اولین باشندوں میں سے ایک کمیونٹی کو تسلیم اور خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتی تھیں۔

اس تنازع کے بعد مقابلے کے منتظمین کو امید ہے کہ مستقبل میں ثقافتی حساسیت، درست نمائندگی اور روایتی علامات کے استعمال سے متعلق واضح اصول نافذ کیے جائیں گے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں