اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹیلر سوئفٹ کے گانوں کے استعمال کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی بعض ویڈیوز سے گلوکارہ کے گانے ہٹا دیے گئے ہیں۔ ٹرمپ مہم نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی پاپ اسٹار کے کم از کم دو گانے اپنی ویڈیوز میں استعمال کیے تھے۔ٹیلر سوئفٹ اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ اور سوئفٹ میں پرانی کشیدگی
ٹیلر سوئفٹ نے حالیہ عرصے میں صدر ٹرمپ کے بارے میں کوئی نیا بیان نہیں دیا، تاہم وہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی ڈیموکریٹک حریف اور اس وقت کی نائب صدر کملا ہیرس کی حمایت کرچکی ہیں۔
اس سے قبل 2020 کی انتخابی مہم کے دوران بھی سوئفٹ نے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ امریکی عوام انہیں صدر کے طور پر نہیں چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلسی کی ممکنہ شادی کی افواہیں،کتنے کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے؟
سوئفٹ کی جانب سے کملا ہیرس کی حمایت کے بعد ٹرمپ نے بھی گلوکارہ کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ وہ ٹیلر سوئفٹ سے نفرت کرتے ہیں۔
گانوں کا سیاسی استعمال
ٹرمپ مہم نے گزشتہ ہفتے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ٹیلر سوئفٹ کے دو گانے استعمال کیے۔ ایک ویڈیو میں سوئفٹ کے معروف گانوں کے ناموں اور اشعار سے ملتی جلتی عبارت استعمال کرتے ہوئے اسے ٹرمپ کے نام سے جوڑا گیا۔ایک اور ویڈیو میں سوئفٹ کا نیا گانا I Knew It, I Knew You استعمال کیا گیا، جو فلم Toy Story 5 سے منسلک ہے۔
ویڈیو میں ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں بچوں سے ملاقات، یو ایف سی مقابلے میں رقص کرتے ہوئے اور ایک سیاسی ریلی میں دکھایا گیا۔ اس کے ساتھ ایسی عبارت بھی شامل کی گئی جس میں صدر ٹرمپ کو امریکی عوام اور ملک سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا قرار دیا گیا۔
پہلے بھی گانے استعمال ہوئے
ٹرمپ انتظامیہ یا ان کی مہم کی جانب سے سوئفٹ کے گانوں کا استعمال پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔اپریل میں وائٹ ہاؤس نے آرٹیمس ٹو مشن کے عملے کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ایک ویڈیو شیئر کی تھی، جس میں سوئفٹ کا گانا High Infidelity استعمال کیا گیا۔
ویڈیو کے ساتھ گانے کے ایک معروف مصرعے کی طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس انتخاب پر خاصی توجہ دی۔
یہ بھی پڑھیں :ٹیلر سوئفٹ کے نئے البم کی تشہیر پر اے آئی ویڈیوز کے استعمال کا تنازع
وائٹ ہاؤس نے نومبر میں بھی سوئفٹ کے گانے The Fate of Ophelia کو ایک ٹک ٹاک ویڈیو میں استعمال کیا تھا۔ اس ویڈیو میں امریکی پرچم، مختلف یادگاروں اور صدر ٹرمپ کی متعدد تصاویر شامل تھیں۔
فنکاروں کا احتجاج
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مشہور گانوں کے استعمال پر متعدد فنکار پہلے ہی اعتراض کرچکے ہیں۔صابرینا کارپنٹر، آریانا گرانڈے اور دیگر فنکاروں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی موسیقی کو سیاسی پیغامات یا حکومتی مہمات کے ساتھ استعمال نہ کیا جائے۔
کچھ فنکاروں نے خاص طور پر ایسی ویڈیوز پر اعتراض کیا جن میں ان کے گانوں کو ایسے سیاسی یا متنازع مناظر کے ساتھ استعمال کیا گیا جو ان کے ذاتی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔
وائٹ ہاؤس کی سوشل میڈیا حکمت عملی
صدر ٹرمپ کی کمیونیکیشن ٹیم سوشل میڈیا کے بھرپور استعمال کے لیے جانی جاتی ہے اور مختلف مواقع پر مقبول گانوں کو سیاسی ویڈیوز کے ساتھ جوڑتی رہی ہے۔
ایسی ویڈیوز میں ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی، ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں اور مختلف سیاسی شخصیات کے خلاف اقدامات سے متعلق مواد بھی شامل رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے ماضی میں بعض متنازع ویڈیوز کے دفاع میں یہ مؤقف بھی سامنے آچکا ہے کہ انتظامیہ جانتی تھی کہ میڈیا ان پوسٹس کو نمایاں طور پر نشر کرے گا۔
سوئفٹ کی سیاسی حمایت
ٹیلر سوئفٹ کی سیاسی وابستگی بھی اس معاملے کو مزید حساس بناتی ہے۔ گلوکارہ نے 2024 میں کملا ہیرس کی حمایت کرتے ہوئے اپنے مداحوں سے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی۔
ٹرمپ اس کے بعد متعدد مرتبہ سوئفٹ کو تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ ان کے سوئفٹ کے خلاف بیان دینے کے بعد کیا کسی نے محسوس کیا کہ گلوکارہ اب پہلے جیسی مقبول یا پرکشش نہیں رہیں۔
گانوں کے استعمال پر قانونی سوالات
مشہور فنکاروں کی موسیقی کو سیاسی مہمات میں استعمال کرنے کا معاملہ امریکا میں طویل عرصے سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ فنکار اکثر اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ کسی گانے کا لائسنس یافتہ استعمال اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اسے لازماً کسی سیاسی پیغام یا امیدوار کی حمایت کے طور پر پیش کیا جائے۔
ٹرمپ مہم اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوئفٹ کے گانوں کا استعمال اور بعد ازاں بعض ویڈیوز سے ان گانوں کا ہٹایا جانا اسی جاری تنازع کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے۔
فی الحال ٹیلر سوئفٹ کی ٹیم نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی گانے ہٹائے جانے کی وجوہات پر واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔