الیکشن ایکٹ کے مطابق ہر حلقے کا ریٹرننگ آفیسر پوسٹل بیلٹ پیپر کے ذریعے حاصل کیے گئے ووٹوں کی گنتی کے لیے پوسٹل بیلٹ کے حوالے سے امیدواروں کو تاریخ اور وقت کی تحریری اطلاع دیتا ہے۔
ایکٹ کے مطابق پوسٹل بیلٹ پیپرز کے مہر بند لفافے حلقے کے امیدواروں یا ان کے نمائندوں کی موجودگی میں کھولے جاتے ہیں، پوسٹل بیلٹ سے حاصل ہونے والے ووٹ امیدواروں کے ووٹوں میں شامل کیے جائیں گے.
ریٹرننگ افسران کو پوسٹل بیلٹ کی گنتی کے بعد فارم 48 کے ذریعے الیکشن کمیشن کو مطلع کرنے کی ضرورت ہے، پوسٹل بیلٹ کم مارجن والے حلقوں میں فیصلہ کن ہو سکتے ہیں.
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے پوسٹل بیلٹ پیپرز کے لیے 4 لاکھ 49 ہزار 287 درخواستیں موصول ہوئیں، قومی اسمبلی کے لیے 2 لاکھ 6 ہزار 533 اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے 2 لاکھ 42 ہزار 754 درخواستیں موصول ہوئیں.
ای سی پی کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے لیے 74 ہزار 274 درخواستیں اور سندھ اسمبلی کے لیے 26 ہزار 649 درخواستیں موصول ہوئیں، خیبرپختونخوا سے 81 ہزار 282 درخواستیں دی گئیں جبکہ بلوچستان سے 60 ہزار 550 درخواستیں موصول ہوئیں.
الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق متعلقہ ریٹرننگ افسران نے درخواست گزار ووٹرز کو پوسٹل بیلٹ پیپرز بھیجے جن میں ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے کا حق استعمال کرنے والے جیلوں کے قیدی بھی شامل ہیں.
94