آزاد کشمیر انتخابات کے بعد ن لیگ کے لیے اصل امتحان،کامیابی سے حکومت تک کا سفر کتنا آسان؟

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی نمایاں کامیابی نے جہاں پارٹی کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کردی ہے، وہیں انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال نے کئی اہم سوالات بھی کھڑے کردیے ہیں۔ ن لیگ سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر سامنے آئی ہے اور اب اس کی نظریں حکومت سازی اور آئندہ پانچ سال کے سیاسی و انتظامی ایجنڈے پر ہیں۔ تاہم یہ کامیابی صرف نشستیں حاصل کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اب مسلم لیگ ن کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ آزاد کشمیر کے عوام کی توقعات پر پورا اتر سکتی ہے۔

حالیہ نتائج کے بعد مسلم لیگ ن کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے اور پارٹی قیادت حکومت سازی کے لیے مشاورت کررہی ہے۔ نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والی ملاقاتوں میں نہ صرف آئندہ وزیراعظم کے نام پر غور کیا جارہا ہے بلکہ کابینہ کی تشکیل اور مخصوص نشستوں کے حوالے سے بھی فیصلے کیے جارہے ہیں۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نئی حکومت کا سیاسی چہرہ کیسا ہوگا اور وہ اپوزیشن سمیت دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ کس انداز میں معاملات آگے بڑھائے گی۔

ن لیگ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج

نواز شریف نے حالیہ گفتگو میں خود اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن نے ڈیلیور نہ کیا تو عوام ناراض ہوں گے۔ یہی بات نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

انتخابات کے دوران سیاسی جماعتیں عوام سے بڑے بڑے وعدے کرتی ہیں، لیکن حکومت بننے کے بعد اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب ان وعدوں کو عملی شکل دینا پڑتی ہے۔ آزاد کشمیر میں عوام کو روزگار، بجلی، سڑکوں، صحت، تعلیم، سیاحت اور بنیادی سہولتوں کے حوالے سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔

اس لیے نئی حکومت کے لیے صرف سیاسی تقریروں یا بڑے ترقیاتی اعلانات سے کام نہیں چلے گا۔ اسے پہلے چند ماہ میں ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کے اثرات عام آدمی کو براہ راست محسوس ہوں۔

پیپلزپارٹی کے ساتھ تعلقات اہم

انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی بھی اہمیت رکھتی ہے۔ نواز شریف نے سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہ کرنے کی بات کرکے بظاہر پیپلزپارٹی کو مفاہمت کا پیغام دیا ہے۔

یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ دونوں جماعتیں وفاق میں اتحادی ہیں۔ اگر آزاد کشمیر کی سیاست میں اختلافات شدید ہوجاتے ہیں تو اس کے اثرات قومی سیاست پر بھی پڑسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر میں ن لیگ کی حکومت سازی، نواز شریف کا پیپلزپارٹی سے شکوہ اور ترقی کا بڑا ایجنڈا

پیپلزپارٹی کی جانب سے انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ ن لیگ اپنی کامیابی کو عوامی مینڈیٹ قرار دے رہی ہے۔ ایسے ماحول میں نئی حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپوزیشن کے تحفظات کو سیاسی طریقے سے سنے اور اداروں پر اعتماد بحال رکھنے کی کوشش کرے۔

وزارت عظمیٰ کا فیصلہ اہم ہوگا

اب سب سے زیادہ توجہ اس بات پر ہے کہ آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ کس کے حصے میں آتی ہے۔ مسلم لیگ ن کے اندر کئی سینئر نام زیر غور ہیں اور حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کی مشاورت سے متوقع ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک عہدے کا انتخاب نہیں ہوگا بلکہ اس سے نئی حکومت کی سمت بھی واضح ہوگی۔ اگر ایسا وزیراعظم سامنے آتا ہے جو پارٹی کے مختلف دھڑوں کو ساتھ لے کر چلنے، اپوزیشن سے رابطہ رکھنے اور وفاقی حکومت کے ساتھ بہتر تعاون کی صلاحیت رکھتا ہو تو حکومت کے لیے سیاسی استحکام پیدا کرنا آسان ہوگا۔

دوسری جانب اگر حکومت سازی کے آغاز ہی میں عہدوں کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہوگئے تو اس سے ن لیگ کی انتخابی کامیابی کا تاثر متاثر ہوسکتا ہے۔

پنجاب ماڈل آزاد کشمیر میں کتنا کامیاب ہوگا؟

نواز شریف نے پنجاب کی ترقی کو مثال بناتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح پنجاب کو بدلا گیا اسی طرح آزاد کشمیر کو بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہ سیاسی طور پر ایک مضبوط نکتہ ہے، کیونکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولتوں کے دعوے کررہی ہے۔

لیکن آزاد کشمیر کی صورتحال پنجاب سے بہت مختلف ہے۔ یہاں پہاڑی جغرافیہ، دشوار گزار علاقے، محدود وسائل اور آبادی کے پھیلاؤ کے باعث ترقیاتی منصوبوں کی لاگت اور مشکلات زیادہ ہوسکتی ہیں۔

اس لیے آزاد کشمیر میں پنجاب کے منصوبوں کی صرف نقل کرنے کے بجائے مقامی ضروریات کے مطابق پالیسی بنانا ہوگی۔ سڑکوں، سیاحت، پن بجلی، زراعت اور چھوٹے کاروبار کے شعبوں میں سرمایہ کاری نئی حکومت کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

نوجوانوں اور کسانوں پر توجہ ضروری

نواز شریف کی جانب سے آزاد کشمیر کے طلبا کو لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس دینے کی بات بھی اہم ہے۔ خطے کے نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار سب سے بڑے مسائل میں شامل ہیں۔

اگر لیپ ٹاپ اسکیم کو صرف سیاسی اعلان کے بجائے ڈیجیٹل تعلیم، فری لانسنگ، آئی ٹی ٹریننگ اور روزگار کے مواقع سے جوڑ دیا جائے تو اس کے طویل مدتی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

اسی طرح کسان کارڈ کا اعلان بھی اہم ہے۔ آزاد کشمیر میں زرعی شعبہ اگرچہ پنجاب کے مقابلے میں مختلف نوعیت رکھتا ہے، لیکن مقامی کسانوں کو بیج، کھاد، قرض، مارکیٹنگ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کی سہولت فراہم کی جائے تو دیہی معیشت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔

ہیلی کاپٹر کا معاملہ

آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی نواز شریف کی تجویز بھی سیاسی اور انتظامی بحث کا موضوع بن سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں کی وجہ سے ہنگامی حالات میں فضائی رابطہ یقیناً مفید ہوسکتا ہے۔

تاہم اس سہولت کے استعمال کا طریقہ کار بھی واضح ہونا چاہیے۔ اگر ہیلی کاپٹر کو سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، طبی ہنگامی صورتحال، ریسکیو اور دور دراز علاقوں تک رسائی کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک مفید انتظامی سہولت بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ صرف حکومتی پروٹوکول تک محدود رہا تو عوامی سطح پر سوالات ضرور اٹھیں گے۔

اصل فیصلہ کارکردگی کرے گی

مجموعی طور پر مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر میں انتخابی میدان میں مضبوط پوزیشن حاصل کرلی ہے، لیکن اب اسے ایک اور زیادہ مشکل میدان کا سامنا ہے اور وہ ہے حکومت کی کارکردگی۔

عوام یہ دیکھنا چاہیں گے کہ نئی حکومت بجلی کے مسائل کس حد تک حل کرتی ہے، نوجوانوں کو روزگار کے کتنے مواقع ملتے ہیں، تعلیم اور صحت کے شعبے میں کیا تبدیلی آتی ہے اور سڑکوں و بنیادی ڈھانچے پر کتنی عملی پیش رفت ہوتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئی حکومت کو سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر عوامی مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ اگر ن لیگ اپنے انتخابی مینڈیٹ کو ترقیاتی کارکردگی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو آزاد کشمیر میں اس کی سیاسی گرفت مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر حکومت سازی کے بعد زیادہ توجہ عہدوں، سیاسی اختلافات اور اقتدار کی اندرونی کشمکش پر رہی تو انتخابی کامیابی کا فائدہ محدود ہوسکتا ہے۔

ہمیں فالو کریں