اردو ورلڈ کینیڈا( ویب نیوز ) بنگلادیش نے آسٹریلیا کو پہلے ٹیسٹ میچ میں 9 وکٹوں سے شکست دے کر ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کردیا۔
بنگلادیشی ٹیم نے آسٹریلوی سرزمین پر پہلی مرتبہ ٹیسٹ میچ جیتنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر موجود بنگلادیش نے عالمی نمبر ایک آسٹریلیا کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر شکست دے کر کرکٹ حلقوں کو حیران کردیا۔
بنگلادیش نے 57 رنز کا ہدف آسانی سے حاصل کرلیا
آسٹریلیا کی جانب سے دوسری اننگز میں بنائے گئے 284 رنز کے بعد بنگلادیش کو میچ جیتنے کے لیے صرف 57 رنز کا ہدف ملا تھا۔ بنگلادیشی اوپنرز نے محتاط انداز میں اننگز کا آغاز کیا اور کسی بڑے دباؤ کے بغیر ہدف کی جانب پیش قدمی جاری رکھی۔
یہ بھی پڑھیں :
بنگلہ دیش کیخلا ف شکست،کرکٹ کے معاملات ٹھیک کر کے رہوں گا،چیئرمین پی سی بی
ہدف کے تعاقب میں بنگلادیش نے صرف ایک وکٹ گنوائی اور کامیابی حاصل کرلی۔ شادمان اسلام نے 25 رنز بنائے جبکہ مومن الحق 30 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ دونوں بیٹرز نے ذمہ دارانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو تاریخی فتح تک پہنچایا۔
آسٹریلیا پہلی اننگز میں صرف 198 رنز بنا سکا
میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس کے بعد بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی پہلی اننگز میں 198 رنز بنائے۔ میزبان ٹیم کے بیٹرز بنگلادیشی بولرز کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکے اور وقفے وقفے سے وکٹیں گنواتے رہے۔
آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو ابتدائی اننگز میں بڑا مجموعہ بنانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بنگلادیشی بولرز نے مسلسل دباؤ برقرار رکھا جس کے نتیجے میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 198 رنز پر پویلین واپس لوٹ گئی۔
بنگلادیش نے پہلی اننگز میں شاندار برتری حاصل کی
آسٹریلیا کے 198 رنز کے جواب میں بنگلادیشی بیٹرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پہلی اننگز میں 426 رنز بنا ڈالے۔ اس طرح بنگلادیش کو آسٹریلیا کے خلاف پہلی اننگز میں 228 رنز کی بڑی برتری حاصل ہوگئی۔
بنگلادیش کی اس شاندار بیٹنگ نے میچ کا رخ تبدیل کردیا۔ آسٹریلیا کو دوسری اننگز میں نہ صرف بڑا اسکور کرنا تھا بلکہ بنگلادیش کو ہدف دینے کے لیے آخری وکٹ تک مزاحمت بھی کرنا تھی۔ تاہم بنگلادیشی ٹیم کی پہلی اننگز کی برتری نے میزبان ٹیم کو شدید دباؤ میں رکھا۔
دوسری اننگز میں آسٹریلیا کی مزاحمت
آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں اپنی بیٹنگ بہتر بنانے کی کوشش کی اور پہلی اننگز کے مقابلے میں زیادہ رنز بنائے۔ میزبان ٹیم نے دوسری اننگز میں 284 رنز اسکور کیے۔
آسٹریلوی بیٹرز نے بنگلادیشی بولرز کے خلاف مزاحمت کی لیکن پہلی اننگز کا خسارہ اتنا زیادہ تھا کہ 284 رنز بھی آسٹریلیا کو میچ میں محفوظ پوزیشن فراہم نہ کرسکے۔ دوسری اننگز مکمل ہونے کے بعد بنگلادیش کے سامنے فتح کے لیے صرف 57 رنز کا ہدف موجود تھا۔
آسٹریلوی سرزمین پر بنگلادیش کی پہلی ٹیسٹ فتح
بنگلادیش کی اس کامیابی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ آسٹریلیا میں اس کی پہلی ٹیسٹ فتح ہے۔ بنگلادیشی ٹیم نے اس سے قبل آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچ جیتنے میں کامیابی حاصل نہیں کی تھی، تاہم ڈارون میں کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے تاریخ رقم کردی۔
یہ کامیابی بنگلادیشی کرکٹ کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ ٹیم نے دنیا کی مضبوط ترین ٹیسٹ ٹیموں میں شمار ہونے والے آسٹریلیا کو اس کی اپنی سرزمین پر شکست دی۔ اس فتح نے بنگلادیشی ٹیم کے حوصلے بلند کرنے کے ساتھ عالمی کرکٹ میں اس کی صلاحیتوں کو بھی نمایاں کردیا ہے۔
عالمی نمبر ایک آسٹریلیا کے لیے بڑا دھچکا
آسٹریلیا کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر بنگلادیش کے ہاتھوں 9 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر کی ٹیم کے لیے یہ نتیجہ غیر متوقع قرار دیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں:
آسٹریلیا کو شکست ،بنگلہ دیش نے 21 سال بعد تاریخ رقم کر دی
آسٹریلیا عام طور پر اپنی سرزمین پر انتہائی مضبوط ٹیم تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بنگلادیش نے میچ کے تینوں شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھائی اور میزبان ٹیم کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ پہلی اننگز میں صرف 198 رنز پر آؤٹ ہونا آسٹریلیا کی شکست کی بڑی وجوہات میں شامل رہا۔
بنگلادیشی ٹیم نے ہر شعبے میں برتری دکھائی
ڈارون ٹیسٹ میں بنگلادیش کی کامیابی کسی ایک شعبے کی کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ٹیم ورک کا مظہر رہی۔ بولرز نے آسٹریلیا کو پہلی اننگز میں محدود رکھا جبکہ بیٹرز نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 426 رنز بنا کر بڑی برتری حاصل کی۔
اس کے بعد دوسری اننگز میں بھی بولرز نے آسٹریلیا کو 284 رنز تک محدود رکھا اور بیٹرز نے معمولی ہدف حاصل کرکے میچ اپنے نام کرلیا۔
بنگلادیشی کرکٹ کے لیے یادگار دن
ڈارون ٹیسٹ کی فتح بنگلادیشی کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین نتائج میں شامل ہوگئی ہے۔ نویں نمبر کی ٹیم نے عالمی نمبر ایک آسٹریلیا کو اسی کی سرزمین پر شکست دے کر ثابت کیا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کو کمزور سمجھنا خطرناک ہوسکتا ہے۔
بنگلادیش نے 426 رنز کی بڑی پہلی اننگز، مضبوط بولنگ اور ہدف کے کامیاب تعاقب کے ذریعے میچ پر اپنی گرفت برقرار رکھی۔ شادمان اسلام اور مومن الحق نے آخری مرحلے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو تاریخی کامیابی دلائی۔
اس فتح کے ساتھ بنگلادیش نے نہ صرف آسٹریلیا کے خلاف ایک اہم ٹیسٹ جیت لیا بلکہ آسٹریلوی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ کامیابی بھی اپنے نام کرلی۔ دوسری جانب آسٹریلیا کے لیے یہ شکست اپنی سرزمین پر ایک بڑا اپ سیٹ ثابت ہوئی ہے۔
