اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق حالیہ بیان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں نمایاں ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ بیان میں ایران پر ممکنہ حملے منسوخ کرنے اور ایک ممکنہ ڈیل اسی ہفتے طے پانے کے اشارے دیے گئے تھے، جس کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ کروڈ اور دیگر اہم آئل بینچ مارکس کی قیمتوں میں کمی کے بعد توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات کچھ کم ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل 89 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ ہو رہا ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ اور یو اے ای کا مربن کروڈ بھی تقریباً 87 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے۔
دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں کاروبار کے آغاز پر تیزی دیکھی گئی۔ جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا، جو سرمایہ کاروں کے بہتر اعتماد کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
اسی طرح جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 7.5 فیصد سے زائد اوپر چلا گیا۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں ممکنہ کمی کے اشارے عالمی منڈیوں کے لیے مثبت سمجھے جا رہے ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی ہے۔