اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی ایئرلائن ویسٹ جیٹ اور فلائٹ اٹینڈنٹس کی نمائندہ یونین کینیڈین یونین آف پبلک ایمپلائیز (CUPE) کے درمیان ایک ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد ہڑتال ختم کردی گئی۔ ہڑتال کے باعث سینکڑوں پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ ہزاروں مسافر مختلف شہروں اور ممالک میں پھنس کر رہ گئے تھے۔
یونین اور ایئرلائن نے پیر کی صبح مشترکہ طور پر معاہدے کی تصدیق کی، تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات فی الحال جاری نہیں کی گئیں کیونکہ اسے پہلے یونین کے 4 ہزار 400 فلائٹ اٹینڈنٹس کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ہڑتال کیوں ہوئی؟
کیلیگری میں قائم ویسٹ جیٹ کی فلائٹ اٹینڈنٹس یونین کا مطالبہ تھا کہ عملے کو صرف پرواز کے دوران نہیں بلکہ ڈیوٹی شروع ہونے سے لے کر اختتام تک تمام اوقات کا معاوضہ دیا جائے۔
یونین کا مؤقف تھا کہ فلائٹ اٹینڈنٹس جہاز کے اڑنے سے پہلے بھی کئی اہم ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، جن میں مسافروں کا استقبال، حفاظتی اقدامات، سامان کی نگرانی اور دیگر تیاری شامل ہوتی ہے، لیکن اس وقت کا معاوضہ مکمل طور پر نہیں ملتا۔
ابتدائی معاہدہ
یونین کی مقامی شاخ کی صدر عالیہ حسین نے پریس کانفرنس میں کہا کہ معاہدے کی مکمل تفصیلات فی الحال جاری نہیں کی جائیں گی کیونکہ پہلے ارکان کو اس سے آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت ویسٹ جیٹ کے پرانے "فلائٹ کریڈٹ سسٹم” میں بہتری لائی گئی ہے تاکہ فلائٹ اٹینڈنٹس کی مزید ذمہ داریوں کو بھی تسلیم کیا جائے اور اس کے مطابق معاوضہ بڑھایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں :ویسٹ جیٹ فضائی میزبانوں کی ہڑتال، سینکڑوں پروازیں منسوخ، مسافر شدید مشکلات کا شکار
عالیہ حسین نے معاہدے کو "اہم پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق ایک ایسے حل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جو عملے کے لیے فائدہ مند ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونین کے پاس معاہدے کی توثیق کے لیے 30 دن تک کا وقت ہوگا۔
حکومت کا خیرمقدم
کینیڈا کی وزیر برائے روزگار و خاندان پیٹی ہائیڈو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور کینیڈین عوام اس بات پر خوش ہیں کہ دونوں فریق مذاکرات کے ذریعے ایک معاہدے تک پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے اسے اجتماعی مذاکرات کی کامیابی قرار دیا۔
پروازیں کب معمول پر آئیں گی؟
ویسٹ جیٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی پروازوں کا شیڈول بحال کرنا شروع کردیا ہے، تاہم تمام آپریشن مکمل طور پر معمول پر آنے میں چند روز لگ سکتے ہیں۔
ایئرلائن نے مسافروں کو ایک مرتبہ مفت ٹکٹ تبدیل یا منسوخ کرنے کی سہولت بھی جمعرات تک بڑھا دی ہے۔ہوابازی کے ماہر جان گریڈیک کے مطابق طویل ویک اینڈ کے دوران ہڑتال ہونے کی وجہ سے صورتحال کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک ہفتے کے آخر میں تقریباً دو لاکھ پچیس ہزار مسافر ویسٹ جیٹ کی پروازوں کی منسوخی سے متاثر ہوئے۔
مسافروں کی مشکلات
ہڑتال کے باعث متعدد مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔نووا اسکاٹیا میں ایک شادی کی تقریب بھی متاثر ہوئی، جہاں خاندان کے کئی افراد متبادل پروازیں نہ ملنے کے باعث بروقت نہیں پہنچ سکے۔
متاثرہ مسافروں کا کہنا تھا کہ انہیں مسلسل غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا اور کئی گھنٹوں بلکہ کئی دنوں تک نئی پروازوں کا انتظار کرنا پڑا۔
سفری ماہرین نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی پروازوں کی تازہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں اور سفر سے پہلے ایئرلائن سے تصدیق ضرور کریں۔
بین الاقوامی مسافر زیادہ محفوظ
ماہرین کے مطابق کینیڈا کے اندر سفر کرنے والے مسافروں کو لیبر تنازع کی صورت میں اضافی اخراجات کا قانونی معاوضہ لازمی نہیں ملتا کیونکہ ایسی صورتحال ایئرلائن کے کنٹرول سے باہر سمجھی جاتی ہے۔
تاہم بیرون ملک پھنس جانے والے مسافر نسبتاً بہتر قانونی تحفظ رکھتے ہیں اور بعض حالات میں ہوٹل، کھانے اور دیگر ضروری اخراجات کا معاوضہ حاصل کرسکتے ہیں۔
اسی لیے ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ سفر سے پہلے اپنی ٹریول انشورنس یا کریڈٹ کارڈ انشورنس کی شرائط ضرور چیک کریں تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ لیبر تنازعات کی صورت میں کس حد تک تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
کوپن ہیگن میں پھنسے مسافر
ہڑتال کے باعث ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں پھنسے ایک مسافر کیون اسٹیفن نے بتایا کہ انہیں تقریباً 24 گھنٹے تک کوئی معلومات نہیں ملیں۔
بعدازاں انہیں نئی پرواز کی اطلاع ملی، جس کے تحت وہ اسکینڈے نیوین ایئرلائنز کے ذریعے بوسٹن جائیں گے اور وہاں سے ویسٹ جیٹ کی پرواز کے ذریعے کیلگری واپس پہنچیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کئی دن مختلف ہوٹلوں میں منتقل ہوتے رہے اور اضافی اخراجات برداشت کیے۔ان کے مطابق ویسٹ جیٹ نے اخراجات کی واپسی کا وعدہ کیا ہے، تاہم وہ اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک رقم واپس نہیں مل جاتی۔
معاہدے پر ملازمین کا ردعمل
یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ارکان نے اس معاہدے کی منظوری دے دی تو یہ فلائٹ کریڈٹ سسٹم میں ایک اہم تبدیلی ہوگی، جس کے ذریعے فلائٹ اٹینڈنٹس کی زیادہ ذمہ داریوں کو تسلیم کیا جائے گا اور ان کے معاوضے میں بھی اضافہ ہوگا۔
یونین نے اپنے تمام ارکان، مزدور تنظیموں اور عوام کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکرات کے دوران ان کی حمایت کی۔
دوسری جانب بعض مسافروں نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی کہ فلائٹ اٹینڈنٹس کو ان کے کام کے تمام اوقات کا مناسب معاوضہ ملنا چاہیے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ پروازوں کا نظام جلد مکمل طور پر بحال ہوگا تاکہ متاثرہ مسافر مزید مشکلات سے بچ سکیں۔