اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں دو سال قبل جاسپر نیشنل پارک کی ہولناک جنگلاتی آگ کے دوران جان گنوانے والے فائر فائٹر مورگن کچن کی ہلاکت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکام نے البرٹا کی وزارتِ فاریسٹری اینڈ پارکس کے خلاف کام کی جگہ پر حفاظتی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزام میں چھ الزامات عائد کر دیے ہیں۔
24 سالہ مورگن کچن، جو کیلگری سے تعلق رکھتے تھے، 3 اگست 2024 کو جنگلاتی آگ بجھانے کے دوران ایک درخت گرنے سے جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس وقت جاسپر کا قصبہ شدید آگ کی لپیٹ میں تھا اور فائر فائٹرز مسلسل خطرناک حالات میں امدادی کارروائیاں انجام دے رہے تھے۔
کن الزامات کا سامنا؟
البرٹا کے آکیوپیشنل ہیلتھ اینڈ سیفٹی (OHS) ایکٹ کے تحت وزارت پر مجموعی طور پر چھ الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات 29 جولائی کو دائر کیے گئے، جن میں کہا گیا ہے کہ وزارت اپنے ملازمین کے لیے محفوظ کام کی جگہ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔
الزامات کے مطابق متعلقہ ادارہ جائے وقوعہ پر موجود خطرات کا مناسب اندازہ لگانے اور ان پر قابو پانے میں ناکام رہا، جبکہ فائر فائٹرز کو ضروری حفاظتی تربیت بھی مکمل طور پر فراہم نہیں کی گئی۔مزید یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ خطرناک درختوں کو کاٹنے، محفوظ زون قائم کرنے یا ایسے علاقوں میں کام روکنے جیسے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے، جس سے کارکنوں کی جان کو غیر ضروری خطرات لاحق رہے۔
یونین کا ردعمل
البرٹا یونین آف پروونشل ایمپلائیز (AUPE) کے نائب صدر جیمز گالٹ نے مقدمہ درج ہونے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنگلاتی فائر فائٹرز ہر روز انتہائی خطرناک حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مورگن کچن صرف ایک اعداد و شمار نہیں تھے بلکہ ایک انسان تھے، جن کی موت نے ان کے ساتھیوں اور پورے محکمے کو گہرے صدمے سے دوچار کیا۔ ان کے مطابق اس واقعے نے واضح کر دیا کہ جنگلاتی آگ سے نمٹنے والے عملے کی حفاظت کو ہر صورت اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔گالٹ نے مزید کہا کہ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ فائر فائٹرز عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں، اس لیے حکومت پر لازم ہے کہ وہ انہیں محفوظ ماحول فراہم کرے۔
حکومت کا مؤقف
البرٹا کی وزارتِ پبلک سیفٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز کے پریس سیکریٹری آرتھر گرین نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ حکومت کو وزارتِ فاریسٹری اینڈ پارکس کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کا علم ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ چونکہ معاملہ اب عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے حکومت قانونی کارروائی پر مزید تبصرہ نہیں کرے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی ہمدردیاں مورگن کچن کے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ ہیں اور کارکنوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکام کے مطابق حکومت اپنے تمام ملازمین کو محفوظ کام کا ماحول فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
حادثے کی تفصیلات
حادثے کے وقت مورگن کچن کی ٹیم نے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ بعد ازاں پارکس کینیڈا اور البرٹا وائلڈ فائر کے اہلکار انہیں اسٹریچر کے ذریعے قریبی ہیلی پیڈ تک لے گئے، جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاسپر میں پارکس کینیڈا کے آپریشن سینٹر منتقل کیا گیا۔وہاں پہلے سے موجود STARS ایئر ایمبولینس کے ذریعے انہیں مزید طبی امداد دینے کی کوشش کی گئی، تاہم انہیں کچھ ہی دیر بعد مردہ قرار دے دیا گیا۔
تباہ کن آگ
2024 میں جاسپر نیشنل پارک میں لگنے والی جنگلاتی آگ کینیڈا کی حالیہ تاریخ کی بدترین آفات میں شمار کی جاتی ہے۔ اس آگ نے جاسپر ٹاؤن سائٹ میں 358 عمارتوں کو تباہ کر دیا تھا اور ہزاروں افراد کو اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
بعد ازاں جاری ہونے والی جائزہ رپورٹ میں مختلف سرکاری اداروں اور ایجنسیوں کے درمیان ذمہ داریوں اور رابطہ کاری کو مزید واضح بنانے کی سفارش بھی کی گئی، تاکہ مستقبل میں ایسے ہنگامی حالات سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ اب مورگن کچن کی ہلاکت پر شروع ہونے والی قانونی کارروائی کو جنگلاتی فائر فائٹرز کی حفاظت سے متعلق ایک اہم مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتائج مستقبل میں حفاظتی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔