اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)منشیات اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سماعت کے دوران ملزمہ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سنگین دعوے کیے۔
سماعت کے دوران ملزمہ نے عدالت کو بتایا کہ اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور اسے زبردستی مختلف افراد کے نام لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
عدالت میں دورانِ سماعت جج نے ملزمہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ آرام سے بیٹھے اور پانی پی لے، عدالت میں اسے ہراساں نہیں کیا جائے گا۔
ملزمہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے تقریباً بیس دن تک حراست میں رکھا گیا، اور اس پر مبینہ طور پر منشیات ڈال کر مقدمات بنائے گئے۔ اس نے الزام عائد کیا کہ اسے چھ افراد نے گاڑی میں ڈال کر منتقل کیا اور بعد ازاں پولیس کے حوالے کیا گیا۔
انمول عرف پنکی نے عدالت کو بتایا کہ اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ مخصوص افراد کے نام لے، اور اسے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر ایسا نہ کیا تو اس کے اہل خانہ کو نقصان پہنچایا جائے گا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ابھی کوئی اقبالی بیان ریکارڈ نہیں کیا جا رہا، اور تفتیشی افسر سے پرانے عدالتی احکامات پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ملزمہ کی طبیعت کے بارے میں بھی استفسار کیا۔
سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے مزید ریمانڈ کی استدعا کی گئی، جس پر عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ اب تک ملزمہ سے کیا تفتیش کی گئی ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مختلف مقدمات میں مزید گیارہ کیسز درج کیے گئے ہیں، اور ملزمہ کی نشاندہی پر منشیات بھی برآمد کی گئی ہے۔ افسر کے مطابق ملزمہ کو کئی مقدمات میں پہلی بار گرفتار کیا گیا ہے اور وہ طویل عرصے بعد قانون کی گرفت میں آئی ہے۔
عدالت نے معاملے سے متعلق مزید ریکارڈ اور سابقہ عدالتی احکامات پیش کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ کے لیے ملتوی کر دی۔