اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران اور پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے، اور اس کا سالانہ خسارہ 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایئر انڈیا کی مالی کارکردگی مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جس پر کمپنی کے شیئر ہولڈر سنگاپور ایئرلائنز کی تازہ رپورٹ نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کی مجموعی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور پڑ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق خطے میں کشیدگی اور پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے ایئر انڈیا کے آپریشنز پر براہِ راست اثر ڈالا ہے، جس کے باعث کمپنی کو طویل روٹس اختیار کرنے پڑ رہے ہیں اور لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران ایئر انڈیا نے اپنی کئی بین الاقوامی پروازیں بھی معطل یا محدود کر دی ہیں، جبکہ سرمایہ کاری میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کے منافع میں 57.4 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور آئندہ مزید کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان حالات میں فضائی صنعت کو درپیش مشکلات نہ صرف کمپنی کے لیے بلکہ پورے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کے لیے چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایئر انڈیا کے مالی دباؤ میں اضافہ مختلف علاقائی عوامل کے ساتھ ساتھ انتظامی اور حکمتِ عملی کے مسائل کی بھی عکاسی کرتا ہے۔