اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) جاپان کے شہر ایچی ناگویا میں ایشین گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب کل منعقد ہوگی، جس کے ساتھ ہی ایشیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کے درمیان کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلوں کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ ایونٹ میں مختلف کھیلوں سے وابستہ ہزاروں ایتھلیٹس اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے، جبکہ پاکستان بھی ایک بڑے دستے کے ساتھ میڈلز کی دوڑ میں شریک ہے۔
45 ممالک کے ہزاروں ایتھلیٹس کی شرکت
تفصیلات کے مطابق ایشین گیمز میں 45 ممالک سے تعلق رکھنے والے 17 ہزار سے زائد ایتھلیٹس اور دیگر متعلقہ افراد شرکت کر رہے ہیں۔ کھیلوں کے اس بڑے ایونٹ میں مختلف ملکوں کے کھلاڑی متعدد کھیلوں میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔
ایشین گیمز نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتیں منوانے کا ایک اہم پلیٹ فارم سمجھے جاتے ہیں بلکہ مختلف ممالک کے درمیان کھیلوں کے شعبے میں روابط اور مسابقت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ افتتاحی تقریب میں شریک ممالک کے دستے مارچ پاسٹ کریں گے، جس کے دوران پاکستان سمیت تمام شریک ممالک اپنی قومی نمائندگی کریں گے۔
فاطمہ ثناء اور نور زمان پاکستانی دستے کی قیادت کریں گے
افتتاحی تقریب کے مارچ پاسٹ میں پاکستانی دستے کی قیادت فاطمہ ثناء اور نور زمان کریں گے۔ دونوں کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے قومی دستے کی قیادت کریں گے اور افتتاحی تقریب میں پاکستانی پرچم کے ساتھ شریک ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں :
ارشد ندیم کے پاس ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیتنے کا سنہری موقع
پاکستانی دستے کی جانب سے افتتاحی تقریب میں شرکت کو ملک کے کھیلوں کے میدان میں موجود نمائندگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف کھیلوں میں شریک پاکستانی کھلاڑی آئندہ مقابلوں میں اپنی کارکردگی کے ذریعے ملک کے لیے اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
230 کھلاڑی اور آفیشلز پاکستانی دستے کا حصہ
ایشین گیمز میں پاکستان کی جانب سے مجموعی طور پر 230 کھلاڑی اور آفیشلز شرکت کر رہے ہیں۔ پاکستانی دستہ 23 مختلف کھیلوں میں میدان میں اترے گا، جہاں کھلاڑی انفرادی اور ٹیم ایونٹس میں میڈلز کے حصول کے لیے مقابلہ کریں گے۔
پاکستانی کھیلوں کے دستے میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی شامل ہیں۔ ان میں ایسے ایتھلیٹس بھی شامل ہیں جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں، جبکہ متعدد کھلاڑیوں کے لیے یہ مقابلے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا اہم موقع ہوں گے۔
گزشتہ ایشین گیمز میں پاکستان نے تین میڈلز جیتے تھے
گزشتہ ایشین گیمز میں پاکستان نے مجموعی طور پر ایک سلور اور دو برانز میڈلز اپنے نام کیے تھے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی نظریں اب جاری ایونٹ میں اس کارکردگی کو بہتر بنانے اور مزید میڈلز حاصل کرنے پر مرکوز ہیں۔
ایشین گیمز میں کامیابی کے لیے کھلاڑیوں کو سخت بین الاقوامی مقابلے کا سامنا کرنا ہوگا، کیونکہ مختلف ممالک اپنے مضبوط اور تجربہ کار کھلاڑیوں کو میدان میں اتار رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستانی دستے کے لیے ہر مقابلہ اہمیت کا حامل ہوگا۔
سافٹ ٹینس میں پاکستان کو مشکلات کا سامنا
کھیلوں کے آغاز سے قبل ہی پاکستان کے کچھ مقابلے شروع ہو چکے ہیں۔ سافٹ ٹینس کے ٹیم ایونٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو جاپان، کوریا اور کمبوڈیا کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ٹیم ایونٹ میں مختلف حریفوں کے خلاف مقابلوں کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، تاہم نتائج پاکستان کے حق میں نہیں آسکے۔ سافٹ ٹینس کے بعد پاکستانی دستے کے دیگر کھلاڑی بھی مختلف کھیلوں میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔
ویمنز کرکٹ ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ گئی
دوسری جانب ویمنز کرکٹ میں پاکستان کی ٹیم نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کی جانب سے سیمی فائنل تک رسائی کو پاکستانی دستے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کرکٹ کے مقابلوں میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر شائقین کی خصوصی نظریں مرکوز ہیں۔ سیمی فائنل میں کامیابی کی صورت میں قومی ٹیم فائنل تک رسائی حاصل کر کے میڈل یقینی بنانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔
اسکواش ٹیم بھی جاپان پہنچ گئی
ادھر پاکستان کی اسکواش ٹیم بھی جاپان روانہ ہوگئی ہے۔ اسکواش پاکستان کے ان کھیلوں میں شامل ہے جن میں ملک کو ماضی میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوتی رہی ہیں، اس لیے قومی اسکواش ٹیم کی ایشین گیمز میں شرکت بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
اسکواش ٹیم کے کھلاڑی جاپان پہنچنے کے بعد مقابلوں کی تیاریوں میں حصہ لیں گے اور اپنے اپنے ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ٹیم کی کارکردگی کا دارومدار کھلاڑیوں کی تیاری، مقابلے کے دباؤ اور عالمی سطح کے حریفوں کے خلاف کھیل پر ہوگا۔
پاکستانی دستے کی نظریں میڈلز پر
ایشین گیمز کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے اصل امتحان شروع ہوگا۔ 23 کھیلوں میں شریک 230 رکنی دستے سے مختلف شعبوں میں بہتر کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے۔ گزشتہ ایونٹ میں حاصل کیے گئے ایک سلور اور دو برانز میڈلز کے بعد اس بار پاکستانی کھلاڑی مزید کامیابیوں کے لیے میدان میں اتریں گے۔
افتتاحی تقریب کے بعد مختلف کھیلوں کے مقابلوں کا سلسلہ تیز ہو جائے گا اور پاکستانی ایتھلیٹس مرحلہ وار ایکشن میں آئیں گے۔ ویمنز کرکٹ ٹیم پہلے ہی سیمی فائنل میں پہنچ چکی ہے، جبکہ اسکواش سمیت دیگر کھیلوں میں بھی پاکستانی کھلاڑی اپنی مہم کا آغاز کریں گے۔
ایشین گیمز کے دوران پاکستان کی مجموعی کارکردگی کا انحصار مختلف کھیلوں میں شریک کھلاڑیوں کی انفرادی اور ٹیم پرفارمنس پر ہوگا۔ شائقین کو امید ہے کہ قومی دستہ مختلف مقابلوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے لیے مزید میڈلز حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔
