اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان نے باب المندب آبنائے میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بحری گزرگاہوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے نہ صرف علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چینز پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل میں بحث
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باب المندب اور بحیرۂ احمر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر دوبارہ بحث کی گئی۔ اجلاس بحرین کی درخواست پر منعقد ہوا، جبکہ اس سے دو روز قبل بھی سلامتی کونسل کو خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری نے اجلاس کو بتایا کہ باب المندب اور اس کے اطراف کی صورتحال مسلسل زیادہ کشیدہ اور غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔
حوثیوں سے فوری مطالبہ
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ تجارتی جہازوں کے خلاف اشتعال انگیز کارروائیاں فوری طور پر بند کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حملوں کے بحری سلامتی، علاقائی امن اور استحکام کے لیے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق سمندری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں صرف متعلقہ خطے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں۔
سعودی عرب سے اظہار یکجہتی
عاصم افتخار احمد نے حوثیوں کی کارروائیوں کو سعودی عرب کے لیے بھی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
باب المندب اور ہرمز اہم راستے
پاکستانی سفیر نے کہا کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش مشکلات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ سمندری تنازعات کے اثرات متاثرہ علاقوں سے کہیں آگے تک پھیل سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اہم بحری گزرگاہوں میں غیر یقینی صورتحال عالمی تجارت، توانائی کے تحفظ اور غذائی سلامتی کے لیے بھی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی سطح پر غذائی عدم تحفظ کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
عالمی تجارت پر اثرات
عاصم افتخار نے آبنائے ہرمز کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں تجارت ہونے والے خام تیل کا ایک بڑا حصہ اس راستے سے گزرتا ہے، جبکہ کھاد کی تجارت میں بھی اس بحری گزرگاہ کی اہمیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آبنائے ہرمز اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات اور بحری نقل و حرکت میں رکاوٹوں پر گہری تشویش رکھتا ہے۔
سفارتی کوششوں کا ذکر
پاکستانی مندوب نے سمندری سلامتی سے متعلق اسلام آباد کے مؤقف کو ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران کی جانے والی سفارتی کوششوں سے بھی جوڑا۔
یہ بھی پڑھیں :باب المندب پر حوثیوں کی پیش قدمی، اسرائیل کی بحری تیاری میں اضافہ کیوں اہم ہے؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دوست ممالک اور شراکت داروں کی حمایت سے کشیدگی میں کمی اور وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششیں کیں، جن کے نتیجے میں جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا۔
یمن کی صورتحال پر تشویش
بحرین کے نمائندے جمال فارس الروّاعی نے حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
انہوں نے یمن کے انسانی بحران کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ شہریوں کی نقل مکانی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق سلامتی کونسل کو اس معاملے پر زیادہ فیصلہ کن مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
سعودی عرب اور چین کا مؤقف
سعودی عرب کے نمائندے عبدالعزیز ایم الوصل نے خبردار کیا کہ حوثیوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں یمن، علاقائی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور عالمی سپلائی چینز کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے سعودی علاقوں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر حملوں کا بھی حوالہ دیا۔
چین کے نمائندے سن لی نے صورتحال میں تیزی سے بڑھتی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے یمن اور سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔
انہوں نے توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مخالفت کی اور کہا کہ بحیرۂ احمر میں محفوظ جہاز رانی پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ تجارتی جہازوں کے حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔
پاکستان کا مذاکرات پر زور
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان سمندر اور خشکی پر معمول کے حالات کی جلد بحالی کے لیے تمام زیرِ التوا معاملات کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا کے دیگر امن پسند ممالک کے ساتھ مل کر سمندری امن و سلامتی، تجارتی راستوں کے تحفظ اور جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے مزید اقدامات کرنے کا خواہاں ہے۔
