اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر بیلے وِل میں یہودی عبادت گاہ کے باہر پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے شخص کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ 29 سالہ شان وارڈ نے واقعے سے قبل اپنے ایک بچپن کے دوست کے ساتھ گفتگو کے دوران یہودیوں کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے جبکہ حالیہ دنوں میں وہ تارکین وطن کے خلاف بھی غصے کا اظہار کرتا رہا تھا۔
آن لائن گیم میں متنازع نام
وارڈ کے ایک بچپن کے دوست نے بتایا کہ 2 ستمبر کو دونوں ایک آن لائن ویڈیو گیم کھیلنے کے لیے انتظار کر رہے تھے تو وارڈ نے اپنے لیے ایک ایسا یوزرنیم رکھنے کی کوشش کی جس میں یہودیوں کے لیے انتہائی توہین آمیز لفظ کے ساتھ ’’قاتل‘‘ کا لفظ شامل تھا۔
گیم کے نظام نے اس نام کو سنسر کردیا، جس کے بعد وارڈ نے اپنا یوزرنیم ’’kitekiller‘‘ رکھ لیا۔ دوست کے مطابق وارڈ نے یہ نام اسی وقت استعمال کیا اور دونوں نے بعد میں گیم کھیلی۔
پیغامات میں یہودی مخالف زبان
وارڈ اور اس کے دوست کے درمیان ہونے والے ٹیکسٹ پیغامات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گفتگو کے دوران یہودیوں کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا تھا۔
اس کے دوست نے بتایا کہ وارڈ کی جانب سے اس قسم کی گفتگو کوئی بالکل نئی بات نہیں تھی، تاہم دوست نے یہ بھی کہا کہ اسے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ وارڈ معاملے کو اس حد تک لے جا سکتا ہے۔
دوست نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ وارڈ سے تعلق سامنے آنے کی صورت میں اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
تارکین وطن کے خلاف غصہ
دوست کے مطابق ستمبر کے آغاز میں ہونے والی ایک گفتگو کے دوران وارڈ نے اپنی بے روزگاری کے حوالے سے بھی شدید مایوسی کا اظہار کیا۔
اس نے بتایا کہ وارڈ نے کہا کہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور تارکین وطن کو اپنی ملازمت نہ ملنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کی۔
دوست کے مطابق اس نے وارڈ کے رویے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران واضح تبدیلی محسوس کی تھی، تاہم اسے توقع نہیں تھی کہ وہ کسی انتہائی قدم کی طرف جا سکتا ہے۔
ظاہری شکل بھی بدل گئی
بچپن کے دوست نے بتایا کہ رواں موسم گرما کے دوران وارڈ کی شخصیت اور ظاہری شکل میں بھی تبدیلی آئی تھی۔اس کے مطابق پہلے وارڈ کا جسم بھاری تھا لیکن بعد میں وہ دبلا ہوگیا اور اس کے بال بھی لمبے اور بکھرے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ دوست نے کہا کہ وارڈ کے رویے میں بھی تبدیلی محسوس ہوتی تھی اور وہ پہلے کی نسبت کم بات کرتا تھا۔
اس کے مطابق عام طور پر دونوں دوست تفصیلی گفتگو کرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے تھے، لیکن آخری عرصے میں وارڈ زیادہ تر خاموش رہتا اور اپنے خیالات میں گم دکھائی دیتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں :ملک میں شدت پسندوں کے حملے کا امکان، یہودی برادری ہدف ہوسکتی،سیکورٹی ایجنسی کا انتباہ
سنیگاگ کے باہر فائرنگ
اونٹاریو کی پولیس کارروائیوں کی تحقیقات کرنے والے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے مطابق شان وارڈ اتوار کی رات بیلے وِل میں سَنز آف جیکب سنیگاگ کے باہر پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہودی برادری کے افراد یوم کپور کی عبادات کے لیے سنیگاگ میں جمع تھے۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق وارڈ نے بیلے وِل پولیس کے کانسٹیبل جیف اسمتھ پر مبینہ طور پر شاٹ گن سے فائرنگ کی، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں درجنوں گولیاں چلنے کی اطلاع ہے۔
پولیس اہلکار بھی زخمی
فائرنگ کے دوران پولیس کانسٹیبل جیف اسمتھ بھی زخمی ہوئے۔ وارڈ اور زخمی پولیس اہلکار دونوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وارڈ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے پیر کی رات دم توڑ گیا۔
پولیس نے تاحال حملے کے ممکنہ محرکات کے بارے میں کوئی حتمی معلومات جاری نہیں کی ہیں۔
تاہم وارڈ کے دوست سے حاصل ہونے والے پیغامات، آن لائن سرگرمیوں اور دیگر معلومات سے اس کے یہودی مخالف اور تارکین وطن مخالف خیالات کی جھلک سامنے آئی ہے۔ دوست نے واضح کیا کہ اسے وارڈ کے ایسے انتہائی اقدام کی توقع نہیں تھی اور اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ معاملے کو اس حد تک لے جائے گا۔
آخری ملاقات
دوست کے مطابق اس نے وارڈ کو آخری مرتبہ 2 ستمبر کو بالمشافہ دیکھا تھا، یعنی سنیگاگ کے باہر فائرنگ کے واقعے سے تقریباً تین ہفتے قبل۔
تحقیقات جاری ہیں اور حکام کی جانب سے واقعے کے محرکات اور وارڈ کے ماضی کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کا امکان ہے۔
