اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ کینیڈین حکومت کے ذرائع کے مطابق 19 اگست کی امریکی ڈیڈ لائن سے قبل کسی معاہدے کے امکانات فی الحال واضح نہیں، جبکہ دونوں جانب بعض اہم معاملات پر اب بھی خاصا فاصلہ موجود ہے۔
کینیڈا کے وفاقی وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک نے جمعے کے روز صوبائی اور علاقائی وزرائے تجارت کو مذاکرات کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیراعظم کی کینیڈا، امریکا اقتصادی تعلقات سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے ارکان کو بھی بریفنگ دی۔
مذاکرات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کینیڈین جانب پر معاہدے کے حوالے سے پیدا ہونے والی امید اب کم ہوتی جارہی ہے، جبکہ امریکی حکام اپنی تازہ پیشکش میں بڑی تبدیلی کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔
امریکی پیشکش میں گاڑیوں کے شعبے پر عائد سیکٹرل ٹیرف کو کم کرکے 12.5 فیصد کرنے کی تجویز شامل ہے، تاہم کینیڈا کا مؤقف ہے کہ یہ رعایت کافی نہیں اور اس کے بدلے میں امریکا کو مزید ٹیرف میں کمی کرنا ہوگی۔
بڑا خلا موجود
کیوبک کے وزیر اقتصادیات برنارڈ ڈرین وِل نے بھی مذاکرات کے بارے میں محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اب بھی بڑا خلا موجود ہے۔
ان کے مطابق فی الحال ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے یہ توقع کی جاسکے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 50 فیصد ٹیرف کے نفاذ کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کریں گے۔
سابق کنزرویٹو رہنما اور وزیراعظم کی اقتصادی مشاورتی کمیٹی کے رکن ایرن او ٹول نے بھی دونوں ممالک کے مؤقف کو اب تک ایک دوسرے سے کافی دور قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات جاری ہیں اور معاہدے کے لیے آمادگی موجود ہے، تاہم ابھی طویل سفر باقی ہے۔
او ٹول کے مطابق ممکن ہے کہ مذاکرات کا اصل فیصلہ آخری دنوں یا حتیٰ کہ آخری گھنٹوں میں ہو، جب امریکا اپنی حتمی پوزیشن واضح کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کو ایسا معاہدہ نہیں کرنا چاہیے جو اس کے کارکنوں کے مفادات کا تحفظ نہ کرے۔
امریکی شراب کا معاملہ
مذاکرات میں امریکی شراب اور دیگر الکوحل مصنوعات بھی اہم مسئلہ بن گئی ہیں۔ کینیڈین حکومت نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پاتا ہے تو امریکی شراب کو دوبارہ کینیڈین مارکیٹ میں رکھنے کے لیے تیار رہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں اور علاقوں سے یہ بھی کہا ہے کہ معاہدہ ہونے کی صورت میں امریکی کمپنیوں کے خلاف عائد بعض جوابی خریداری پابندیاں ختم کرنے کے لیے تیار رہیں۔
یہ بھی پڑھیں :امریکی ٹیرف وار کے مقابلے کے لیے کینیڈا متحد، مارک کارنی کا بڑا پیغام
امریکی صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے خلاف نئے ٹیرف کی دھمکی دیتے ہوئے صوبائی سطح پر امریکی شراب پر پابندیوں، کینیڈین ڈیری مارکیٹ میں امریکی کسانوں کی محدود رسائی اور گاڑیوں پر عائد سیکٹرل ٹیرف سمیت مختلف معاملات پر اعتراض کیا ہے۔
ڈیری شعبہ اہم مسئلہ
کینیڈا کے لیے ڈیری شعبے کا تحفظ مذاکرات میں سب سے حساس معاملات میں شامل ہے۔ کیوبک کی وزیر اعلیٰ کرسٹین فریشے نے واضح کیا ہے کہ صوبہ اپنے سپلائی مینجمنٹ نظام پر کوئی ایسی رعایت قبول نہیں کرے گا جس سے مقامی ڈیری صنعت متاثر ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مذاکرات میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے اور سپلائی مینجمنٹ کا تحفظ ان کے لیے سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جاسکتا۔
امریکا طویل عرصے سے شکایت کرتا آیا ہے کہ کینیڈا کی ڈیری مارکیٹ میں امریکی کسانوں اور مصنوعات کو مناسب رسائی حاصل نہیں۔
امریکا کا مؤقف
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے جمعے کو کہا کہ کینیڈا کے ساتھ مذاکرات تعمیری رہے ہیں، تاہم واشنگٹن کینیڈا کے جوابی اقدامات ختم کرنے پر زور دے رہا ہے۔
گریئر کے مطابق امریکا اپنی تجارتی پالیسی پر عملدرآمد کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم اگر کینیڈا کے ساتھ ایسا راستہ نکلتا ہے جو امریکی مفادات کے مطابق ہو تو واشنگٹن معاہدے کے لیے تیار ہے۔
19 اگست اہم دن
امریکی صدر کی جانب سے سینکڑوں کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد اضافی ٹیرف 19 اگست سے نافذ کرنے کی دھمکی نے مذاکرات پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور جنگلاتی مصنوعات سمیت بعض شعبوں پر پہلے سے موجود سیکٹرل ٹیرف بھی برقرار ہیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کی خواہش ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے میں صرف تازہ امریکی ٹیرف ہی نہیں بلکہ پہلے سے عائد سیکٹرل ٹیرف کا مسئلہ بھی حل کیا جائے۔
کینیڈین حکام کے لیے 19 اگست اب ایک اہم ڈیڈ لائن بن چکی ہے۔ صنعتی حلقوں کے مطابق اگر 50 فیصد ٹیرف نافذ ہوگیا تو کینیڈا میں مذاکرات کو مزید طول دینے کے لیے سیاسی گنجائش محدود ہوجائے گی۔
یوں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رہنے کے باوجود معاہدہ ابھی دور دکھائی دیتا ہے اور آنے والے چند دن کینیڈا امریکا تجارتی تعلقات کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جارہے ہیں۔
