اردوان کا اقوام متحدہ میں خطاب، اسلاموفوبیا، فلسطین اور کشمیر پر دوٹوک مؤقف

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلاموفوبیا، فلسطین، غزہ، مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کے کردار سمیت متعدد عالمی معاملات پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عالمی ادارے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی نظام کو بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق زیادہ مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

اسلاموفوبیا پر تشویش

اردوان نے اسلام کے خلاف دشمنی اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز بیانیے اور مذہبی تعصب عالمی سطح پر تیزی سے پھیل رہے ہیں، جن سے معاشروں میں تقسیم اور عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ترک صدر نے زور دیا کہ مذاہب اور مختلف معاشرتی گروہوں کے خلاف نفرت کے خاتمے کے لیے مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے صدرِ جنرل اسمبلی نے بھی رواں اجلاس کے افتتاح پر نفرت انگیز بیانیوں کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ اور ان کے انسانی حقوق اور عالمی امن پر اثرات کی نشاندہی کی ہے۔

اقوام متحدہ میں اصلاحات

رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کے موجودہ کردار اور عالمی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن و سلامتی کے لیے قائم کیے گئے ادارے کو موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ترک صدر کی جانب سے اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں اصلاحات کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں عالمی ادارے کے کردار اور مؤثریت کو بھی اہم موضوع قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ صدر نے بھی ادارے میں گہری اصلاحات اور اعتماد بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

فلسطین کا معاملہ

اردوان نے اپنی تقریر میں فلسطین کی صورتحال کو خصوصی اہمیت دی۔ انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ذاتی طور پر عدم موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترکیے آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کی آواز اقوام متحدہ میں بلند کرتا رہے گا۔

محمود عباس کو رواں سال جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں براہ راست شرکت کی اجازت نہ ملنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینی صدر کی پہلے سے ریکارڈ شدہ تقریر اجلاس میں چلانے کی اجازت دی تھی۔ اس مقصد کے لیے 17 ستمبر کو جنرل اسمبلی نے 152 ووٹوں سے قرارداد منظور کی تھی۔

فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

ترک صدر نے ان ممالک سے بھی فلسطین کو تسلیم کرنے پر غور کرنے کا مطالبہ کیا جو اب تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے مطابق فلسطینی عوام کے حق میں عالمی سطح پر سیاسی اور سفارتی اقدامات جاری رہنے چاہئیں۔

اردوان نے غزہ میں جاری صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں :ترک صدر طیب اردوان کا ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ

غزہ میں بحران

غزہ کا معاملہ اقوام متحدہ کے موجودہ اجلاس میں بھی مرکزی موضوعات میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جنرل اسمبلی کے افتتاحی خطاب میں غزہ میں جاری ہلاکتوں اور تباہی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جنگ بندی، انسانی امداد کی رسائی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا۔

اردوان نے بھی عالمی برادری سے فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے اور خطے میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔

مسئلہ کشمیر کا ذکر

ترک صدر نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو بھی عالمی سطح پر موجود اہم تنازعات میں شامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے تنازعات، جن میں کشمیر بھی شامل ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔

ترکیے طویل عرصے سے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات اور سفارتی حل کی حمایت کا اظہار کرتا رہا ہے۔ اردوان نے بھی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور بین الاقوامی اصولوں کی اہمیت پر زور دیا۔

سلامتی کونسل میں تبدیلی

ترک صدر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ ان کے مؤقف کے مطابق موجودہ عالمی حالات اور طاقت کے بدلتے توازن کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارے کے فیصلہ سازی کے نظام پر نظر ثانی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک کی نمائندگی اور موجودہ عالمی حقیقتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں سامنے لا سکے۔

عالمی نظام پر سوالات

اردوان کی تقریر میں مجموعی طور پر عالمی اداروں کی مؤثریت، مذہبی تعصب، فلسطین اور غزہ، مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کو نمایاں حیثیت حاصل رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی امن کے لیے صرف بیانات کافی نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں کو موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

ترک صدر کا یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں عالمی امن، انسانی حقوق، جنگوں، نفرت انگیز بیانیوں اور بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات سمیت متعدد بڑے مسائل زیر بحث ہیں۔

ہمیں فالو کریں