اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں جنگلات کی شدید آگ کے باعث کئی علاقوں میں عائد انخلا کی پابندیاں بتدریج نرم ہونا شروع ہوگئی ہیں اور ہزاروں متاثرہ افراد کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جارہی ہے، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ سمرلینڈ میں مزید سینکڑوں خاندانوں کو گھروں کو واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے، جبکہ صوبے کے جنوبی علاقوں میں دھویں کی دبیز تہہ آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
حکام کے مطابق موسم کے غیر مستحکم رہنے کی پیش گوئی نے بھی تشویش میں اضافہ کردیا ہے، کیونکہ اتوار کو آسمانی بجلی گرنے کے نتیجے میں مزید جنگلاتی آگ بھڑکنے کا خدشہ موجود ہے۔ صوبے میں پہلے ہی 120 سے زیادہ جنگلاتی آگ فعال ہے، جن میں سے بیشتر آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کے بعد شروع ہوئی ہیں۔
سمرلینڈ میں مزید خاندانوں کو واپسی کی اجازت
سمرلینڈ ڈسٹرکٹ کی جانب سے انخلا کے حکم کو جزوی طور پر کم کرکے اب کچھ علاقوں میں ایمرجنسی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ ہائی وے 97 کے مشرقی علاقے اور ہائی وے کے مغربی جانب واقع ٹراؤٹ کریک محلے کے رہائشی اب اپنے گھروں کو واپس جاسکتے ہیں، تاہم انہیں کسی بھی وقت دوبارہ انخلا کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سمرلینڈ کے میئر ڈگ ہومز کے مطابق اتوار کو مزید تقریباً 800 جائیدادوں کے لیے انخلا کا حکم ختم کرکے انہیں الرٹ کی سطح پر منتقل کردیا گیا، جس کے بعد تقریباً 1,200 جائیدادیں اب انخلا کے الرٹ میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب بالڈ رینج فائر نے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا تو ڈسٹرکٹ کی تقریباً 5,500 جائیدادوں کو انخلا کے حکم کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ مکمل کرلیا ہے، تاہم میئر کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ آگ سے کتنے گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں :برٹش کولمبیا میں جنگل کی آگ نےتباہی مچادی، سینکڑوں گھر جل گئے، ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور
میئر کا کہنا ہے کہ مزید لوگوں کو گھروں کو واپس بھیجنے کا عمل مرحلہ وار جاری رکھا جائے گا اور حکام حالات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ اگر زمینی حالات سازگار رہے تو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید رہائشیوں کو واپسی کی اجازت دی جاسکے۔
ہائی وے 97 مکمل طور پر کھول دی گئی
جنگلات کی آگ کے باعث بند کی گئی ہائی وے 97 کا سمرلینڈ سے گزرنے والا حصہ بھی اتوار کو تمام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق شاہراہ کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ آگ کی صورتحال اور فائر فائٹنگ ٹیموں کی ضروریات سے مشروط رہے گا۔
اس شاہراہ کی بحالی سے سمرلینڈ کے رہائشیوں اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ٹیموں کو نقل و حرکت میں آسانی ملنے کی توقع ہے۔ تاہم حکام نے ڈرائیوروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ علاقے میں فائر فائٹنگ سرگرمیوں اور بدلتے ہوئے حالات کے باعث احتیاط سے سفر کریں۔
دوسری جانب کیش کریک کے قریب ہائی وے 97 کو بھی ہفتوں تک بند رہنے کے بعد ہفتے کے روز محدود انداز میں دوبارہ کھول دیا گیا۔ اس علاقے میں بندش کی بڑی وجہ پرل لیک وائلڈ فائر تھی، جو اب بھی صوبے کی سب سے بڑی فعال جنگلاتی آگ سمجھی جارہی ہے۔
دھویں کی دبیز تہہ برقرار رہنے کا امکان
برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس کے مطابق صوبے کے جنوبی حصے میں چھایا ہوا دھواں آئندہ چند روز تک برقرار رہ سکتا ہے۔ فائر انفارمیشن افسر رک وین کیسٹیرن کا کہنا ہے کہ دھواں ایک طرف زمینی سطح کے درجہ حرارت کو کم کرسکتا ہے، جس سے آگ بجھانے والی ٹیموں کو کچھ فائدہ مل سکتا ہے، لیکن دوسری جانب فضائی نگرانی اور فائر فائٹنگ طیاروں کے لیے کم حدِ نگاہ ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
حکام نے دھویں کے انسانی صحت پر ممکنہ اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ جنگلاتی آگ کا دھواں سانس کے مسائل پیدا کرسکتا ہے، اس لیے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ہوا کے معیار سے متعلق حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی جارہی ہے۔
آسمانی بجلی سے نئی آگ کا خدشہ
فائر حکام کی سب سے بڑی تشویش موسم کا غیر مستحکم ہونا ہے۔ پیش گوئی کے مطابق جنوبی برٹش کولمبیا میں آسمانی بجلی گرنے کے مزید واقعات ہوسکتے ہیں، جو پہلے سے آگ سے متاثرہ صوبے میں نئی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
رک وین کیسٹیرن کے مطابق خاص طور پر وسطی اور جنوبی علاقوں میں فائر سروس آسمانی بجلی کے واقعات پر نظر رکھے گی۔ بعض صورتوں میں بجلی گرنے کے فوراً بعد آگ بھڑک سکتی ہے، جبکہ بعض درختوں یا خشک علاقوں میں پیدا ہونے والی چنگاریاں بعد میں گرم اور خشک موسم میں آگ کی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔
فائر سروس ممکنہ خطرناک علاقوں میں پہلے سے عملہ اور وسائل تعینات کرنے کی تیاری بھی کررہی ہے تاکہ نئی آگ لگنے کی صورت میں فوری کارروائی کی جاسکے۔
120 سے زیادہ آگ، 1800 اہلکار تعینات
برٹش کولمبیا میں اس وقت 120 سے زیادہ جنگلاتی آگ پر فائر فائٹنگ ٹیمیں کام کررہی ہیں۔ حکام کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد آسمانی بجلی گرنے کے بعد شروع ہوئی۔
صوبے میں تقریباً 1,800 فائر فائٹنگ اہلکار مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔ آگ پر قابو پانے کے لیے دیگر صوبوں سے بھی مدد حاصل کی جارہی ہے اور نیو برنزوک اور کیوبک سے فائر فائٹرز کو برٹش کولمبیا بھیجا جارہا ہے۔
یہ اضافی نفری ایسے وقت میں پہنچ رہی ہے جب صوبہ بیک وقت کئی بڑے فائر سے نمٹ رہا ہے اور آنے والے دنوں میں موسم مزید نئی آگ کے امکانات پیدا کرسکتا ہے۔
پرل لیک فائر اب بھی سب سے بڑا
کلنٹن کے قریب پرل لیک وائلڈ فائر اب بھی برٹش کولمبیا میں رواں سال کی سب سے بڑی جنگلاتی آگ ہے۔ ہفتے کی شام تک اس کا پھیلاؤ تقریباً 1,593 مربع کلومیٹر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
کلنٹن کے کچھ رہائشیوں کو ہفتے کے روز انخلا کے احکامات میں نرمی کے بعد گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی گئی، تاہم علاقے کے مغربی حصے میں بعض جائیدادوں کے لیے انخلا کا حکم اب بھی برقرار ہے۔
مقامی کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ واپس آنے والے شہریوں کو علاقے کا منظر پہلے سے بالکل مختلف نظر آرہا ہے۔ بعض مقامات پر گھر اور دیگر عمارتیں آگ کی لپیٹ میں آچکی ہیں، جس کے باعث کئی خاندانوں کے لیے گھروں کو واپسی بھی خوشی کے بجائے صدمے کا باعث بن رہی ہے۔
برٹش کولمبیا میں انخلا کے احکامات کا بتدریج خاتمہ اس بات کی امید ضرور پیدا کررہا ہے کہ بعض متاثرہ علاقوں میں حالات بہتر ہورہے ہیں، تاہم حکام کے مطابق آگ کا خطرہ ابھی برقرار ہے۔ موسم، آسمانی بجلی، خشک حالات اور دھویں کی موجودگی کے باعث فائر فائٹنگ ٹیموں کو آنے والے دنوں میں بھی سخت چیلنجز کا سامنا رہے گا۔
