اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ دعویٰ کہ امریکا نے جنگ کے آغاز کے تقریباً 20 روز بعد ایران سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا، دراصل صرف ایک سفارتی واقعے کا بیان نہیں بلکہ تہران کی جانب سے جنگ کے نتیجے کی اپنی تشریح بھی ہے۔
عراقچی نے اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ابتدائی مطالبے کو ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘‘ سے تعبیر کیا اور اس کے مقابلے میں تقریباً تین ہفتے بعد مبینہ مذاکراتی رابطے کو ایران کی مزاحمت کا نتیجہ قرار دیا۔
اگر امریکی رابطے کی آزادانہ طور پر تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ تبدیلی اہم سفارتی اشارہ سمجھی جاسکتی ہے۔ کیونکہ جنگ کے آغاز میں انتہائی سخت شرائط اور بعد میں مذاکرات کی طرف پیش قدمی اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ عسکری دباؤ کے باوجود مطلوبہ سیاسی نتائج فوری طور پر حاصل نہیں ہوئے۔
ایران اپنے عوام اور دنیا کو کیا پیغام دے رہا ہے؟
عراقچی کے بیان کا ایک اہم پہلو اس کا داخلی اور خارجی سیاسی پیغام ہے۔
تہران کی حکومت کے لیے جنگ صرف میدانِ جنگ کا معاملہ نہیں بلکہ قومی حوصلے اور ریاستی بیانیے کا بھی سوال ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ کہنا کہ ایران نے خود کو ’’سخت اور ناقابلِ شکست طاقت‘‘ ثابت کیا، اسی بیانیے کا حصہ ہے۔
اس بیان کے ذریعے ایران یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی فوجی برتری کے باوجود تہران کو سیاسی طور پر جھکایا نہیں جاسکا۔
یہ بھی پڑھیں :
امریکہ کا ایران کے خلاف اپنے حملوں میں پہلی بار ایک نئے ہتھیار کے استعمال کا انکشاف
دوسری جانب جنگ کے دوران ہونے والی تباہی، جانی نقصان اور معاشی اثرات کا جائزہ لیے بغیر صرف ’’ناقابل شکست‘‘ جیسے الفاظ کو حقیقت کا مکمل پیمانہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ جنگ میں مزاحمت کرنا اور جنگ کے تمام اہداف حاصل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔
مذاکرات کا مطلب شکست یا حکمت عملی؟
بین الاقوامی سیاست میں مذاکرات کی طرف واپسی کو لازماً کسی ایک فریق کی شکست نہیں سمجھا جاتا۔ کئی مرتبہ شدید فوجی دباؤ کے بعد مذاکرات اس لیے شروع ہوتے ہیں تاکہ جنگ کو قابو سے باہر ہونے سے روکا جاسکے، نقصانات محدود کیے جائیں یا سیاسی حل تلاش کیا جاسکے۔
اسی لیے اگر امریکا نے واقعی جنگ کے تقریباً 20 روز بعد رابطہ کیا تھا تو اس کے کئی ممکنہ محرکات ہوسکتے ہیں۔ واشنگٹن شاید ایران کی فوجی صلاحیت، جنگ کے پھیلاؤ، علاقائی اتحادیوں کے کردار، عالمی معاشی اثرات یا آبنائے ہرمز سے متعلق خطرات کو بھی مدنظر رکھ رہا ہو۔
چنانچہ ایرانی بیانیے میں یہ واقعہ ’’امریکی پسپائی‘‘ ہوسکتا ہے، جبکہ واشنگٹن اسے جنگ کے خاتمے یا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی راستہ کھولنے کی حکمت عملی قرار دے سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات میں آبنائے ہرمز کا معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ یہاں کشیدگی میں اضافہ صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی تیل منڈی، شپنگ اخراجات اور کئی ممالک کی معیشتوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
اسی لیے جنگ کے خاتمے سے متعلق کسی بھی مذاکرات میں عسکری معاملات کے ساتھ آبنائے ہرمز، علاقائی سلامتی اور تجارتی راستوں کا سوال بھی مرکزی حیثیت اختیار کرسکتا ہے۔
جوہری پروگرام اصل تنازع کا مرکز
امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہے۔ تہران مسلسل اپنے جوہری پروگرام کو اپنے قومی حقوق اور خودمختاری سے جوڑتا ہے، جبکہ واشنگٹن اس پروگرام کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
مزید پڑھیں:
اسلام آباد ایران امریکہ تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار
اگر جنگ کے بعد مذاکرات ہوتے ہیں تو سب سے مشکل سوال یہی ہوگا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کتنی رعایت دینے پر تیار ہوگا اور امریکا کس حد تک پابندیوں، فوجی دباؤ اور دیگر مطالبات میں نرمی اختیار کرے گا۔
اسرائیل کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا
اس تنازعے کا ایک اہم فریق اسرائیل بھی ہے۔ ایران کے ساتھ کسی بھی امریکی پالیسی میں اسرائیل کے سکیورٹی مفادات کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اگر جنگ کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھلتا ہے تو یہ سوال بھی اہم ہوگا کہ اسرائیل اس سفارتی عمل کو کس حد تک قبول کرتا ہے اور ایران کے جوہری و میزائل پروگرام کے بارے میں اس کی اپنی ترجیحات کیا ہیں۔
اصل سوال: مذاکرات کس شرائط پر ہوں گے؟
عراقچی کے بیان کا سب سے اہم پہلو شاید یہی ہے کہ اگر امریکا واقعی مذاکرات کی طرف آیا تو مذاکرات کی شرائط کیا تھیں؟
کیا واشنگٹن نے اپنے ابتدائی مطالبات میں تبدیلی کی؟ کیا ایران نے کوئی رعایت دی؟ کیا جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے لیے کوئی عبوری فارمولہ سامنے آیا؟ اور کیا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے بنیادی مسائل پر کوئی قابلِ عمل سمجھوتا ممکن ہے؟
ان سوالات کے جوابات ہی یہ طے کریں گے کہ تقریباً 20 روز بعد مبینہ مذاکراتی رابطہ محض جنگی دباؤ کم کرنے کی کوشش تھا یا واقعی امریکا کی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کی علامت۔
نتیجہ: فتح کے دعوے سے زیادہ اہم سفارتی نتیجہ
عباس عراقچی کا بیان بلاشبہ ایران کے لیے ایک مضبوط سیاسی بیانیہ تشکیل دیتا ہے، مگر کسی بھی جنگ کے نتیجے کا حتمی فیصلہ صرف ایک فریق کے دعوے سے نہیں کیا جاسکتا۔
اصل کامیابی اس وقت واضح ہوگی جب یہ معلوم ہوگا کہ جنگ کے بعد کون اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا، مذاکرات میں کس فریق نے کتنی رعایت دی اور خطے میں طاقت کا توازن کس حد تک تبدیل ہوا۔
اگر امریکا اور ایران واقعی جنگ کے بعد مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو یہ خود اس بات کا اشارہ ہوگا کہ فوجی طاقت کے باوجود تنازع کا مستقل حل بالآخر سفارت کاری ہی کے ذریعے تلاش کرنا پڑتا ہے۔