اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)گلگت بلتستان میں 2026 کے انتخابات قریب آتے ہی سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں نے اہم حلقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بھرپور رابطہ مہم اور سیاسی جوڑ توڑ شروع کر دیا ہے۔
انتخابی ماحول میں شدت کے باعث خطے کے تین اہم حلقے اس بار خصوصی اہمیت اختیار کر گئے ہیں جہاں سخت اور کانٹے دار مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
گلگت کے حلقہ ایک میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین ایڈووکیٹ اور مسلم لیگ ن کے محمد شفیق الدین کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ اس حلقے میں مجلس وحدت مسلمین کے محمد الیاس صدیقی اور استحکام پاکستان پارٹی کے سلطان رئیس بھی میدان میں موجود ہیں جو اپنی انتخابی مہم کے ذریعے مضبوط چیلنج پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حلقہ دو میں مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کے درمیان براہ راست مقابلے کے آثار نمایاں ہیں۔ اس کے ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے فتح اللہ خان اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عتیق پیرزادہ بھی اپنی انتخابی مہم کو تیز کرتے ہوئے کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔ اس حلقے میں مختلف سیاسی قوتوں کی موجودگی نے مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔
حلقہ تین میں بھی سیاسی صورتحال انتہائی متحرک ہے جہاں مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر محمد اقبال اور پاکستان پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر کے درمیان اہم مقابلہ متوقع ہے۔ اسی حلقے میں استحکام پاکستان پارٹی کے کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد شفیع اور تحریک انصاف و مجلس وحدت مسلمین کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سہیل عباس بھی انتخابی میدان میں سرگرم ہیں، جس سے مقابلہ مزید پیچیدہ اور سخت ہو گیا ہے۔
مجموعی طور پر تمام بڑی سیاسی جماعتیں آخری مرحلے سے قبل اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں اور ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے جلسوں، رابطہ مہمات اور مقامی سطح پر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان کے نگران وزیر اطلاعات غلام عباس نے کہا ہے کہ خطے کے چوبیس حلقوں میں سات جون کو شفاف اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کو مالی وسائل، سیکیورٹی اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں تاکہ انتخابی عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی کے لیے پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد پولیس سمیت مختلف اداروں سے اضافی نفری طلب کی گئی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ انتخابات مکمل طور پر پرامن ماحول میں منعقد ہوں اور عوام بلا خوف و خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔