آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد جرمانہ، ایران کا سخت قانون لانے کا اعلان

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران نے آبنائے ہرمز سے اپنے مقررہ قواعد یا اجازت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے خلاف سخت کارروائی کی راہ ہموار کردی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی نے مجوزہ قانون کی اہم شقوں کی منظوری دے دی، جس کے تحت خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے سامان کی مالیت کے 20 فیصد تک جرمانہ یا سامان کے ایک حصے کو ضبط کیا جاسکے گا۔

جہاز تحویل میں لینے کی اجازت

ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی کے مطابق مجوزہ قانون میں ایسی شقیں شامل کی گئی ہیں جن کے تحت قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو عارضی طور پر تحویل میں لیا جاسکے گا۔

جہاز کو اس وقت تک روکے رکھنے کی اجازت ہوگی جب تک متعلقہ جرمانہ ادا نہ کردیا جائے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے طے کیے جانے والے قواعد پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔

20 فیصد جرمانے کی شق

رپورٹس کے مطابق مجوزہ قانون کی ایک شق کے تحت ایران کے مقرر کردہ ضوابط کے خلاف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو جرمانے کے علاوہ ان کے کارگو کے 20 فیصد حصے یا اس کے مساوی مالیت کی ضبطی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ایرانی پارلیمانی کمیٹی نے مجوزہ قانون کی متعلقہ دفعات کی منظوری دے دی ہے، تاہم یہ بات اہم ہے کہ یہ قانون ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوا۔ پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد اسے مکمل پارلیمنٹ اور گارڈین کونسل کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

ایران کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں پہلے ہی شدید متاثر ہیں۔ خطے میں جاری تنازع اور سکیورٹی خدشات کے باعث اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد معمول کے مقابلے میں بہت کم ہوگئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق 22 ستمبر کو جاری ہونے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ 21 ستمبر کو صرف دو کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ تنازع شروع ہونے سے پہلے یہاں روزانہ اوسطاً تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے۔ یہ اعداد و شمار ایسے جہازوں کو شامل نہیں کرتے جنہوں نے اپنے خودکار شناختی نظام یعنی AIS کے ٹرانسپونڈر بند کیے ہوئے ہوں۔

عالمی تجارت کے لیے اہم راستہ

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والے تیل اور مائع قدرتی گیس سمیت توانائی کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔

تنازع سے پہلے یہاں روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہازوں کی آمدورفت ہوتی تھی، جن میں آئل ٹینکرز، گیس کیریئرز، بلک کارگو اور کنٹینر جہاز شامل تھے۔ رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے خام تیل اور ایل این جی کی روزانہ سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کے لیے اہم راستہ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے،ایران کی بڑی پیشکش

ایران کا نیا ضابطہ

ایرانی پارلیمان میں زیرِ غور قانون صرف جرمانے تک محدود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت، اجازت اور ایرانی حکام کے ساتھ رابطے سے متعلق قواعد کو قانونی شکل دینے کی کوشش بھی شامل ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت ایران بعض بحری جہازوں سے نیویگیشن، سکیورٹی، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر مخصوص خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کا نظام بھی قائم کرنا چاہتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تشویش

آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے مجوزہ ضوابط ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر اس بحری راستے کی آزادانہ آمدورفت پہلے ہی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔

انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے لازمی ٹولز یا صرف گزرنے کی بنیاد پر فیس عائد کرنے کی مخالفت کی ہے، تاہم مخصوص خدمات کی فراہمی کے عوض فیس کے معاملے کو الگ سمجھا جاتا ہے۔ ایران بھی اپنی مجوزہ فیس کو محض گزرنے کا ٹیکس قرار دینے کے بجائے سکیورٹی اور دیگر خدمات سے منسلک ادائیگیوں کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔

جہازوں کی آمدورفت مزید متاثر

حالیہ اعداد و شمار آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 21 ستمبر کی رائٹرز رپورٹ کے مطابق ہفتے کے اختتام پر آبنائے سے گزرنے والے کموڈیٹی جہازوں کی تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں بھی کم رہی، جبکہ جنگ سے پہلے کے روزانہ اوسط کے مقابلے میں کمی کہیں زیادہ نمایاں ہے۔

قانون ابھی حتمی نہیں

ایرانی پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے باوجود مجوزہ قانون کو ابھی مزید قانونی مراحل سے گزرنا ہے۔ مکمل پارلیمنٹ کی منظوری اور گارڈین کونسل کے جائزے کے بعد ہی اس کی حتمی حیثیت واضح ہوگی۔

اگر قانون نافذ ہوتا ہے تو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے ایرانی قواعد کی پابندی مزید اہم ہوجائے گی، جبکہ خطے میں پہلے سے کم ہوتی بحری آمدورفت اور عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے اس قانون کے ممکنہ اثرات پر بھی بین الاقوامی سطح پر نظر رکھی جارہی ہے۔

ہمیں فالو کریں