اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ اس ہفتے کیوبیک سٹی میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان صوبائی خودمختاری، قومی یکجہتی اور توانائی کے شعبے میں تعاون جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
اس ملاقات کو کینیڈا کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ مختلف صوبوں میں اختیارات اور خودمختاری سے متعلق مباحث ایک بار پھر شدت اختیار کر رہے ہیں۔
ڈینیئل اسمتھ نے کہا ہے کہ وہ امید رکھتی ہیں کہ کیوبیک کی وزیرِاعلیٰ کرسٹین فریشیٹ مشرق سے مغرب تک توانائی کی راہداری کے قیام پر سنجیدہ گفتگو کے لیے آمادہ ہوں گی۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ملک کے مختلف حصوں کو توانائی کے شعبے میں زیادہ مؤثر انداز میں جوڑنا اور اندرونی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مضبوط اور خود کفیل نظام تشکیل دینا ہے۔
البرٹا کی وزیرِاعلیٰ نے وضاحت کی کہ جب بھی ان کی کیوبیک کی قیادت سے ملاقات ہوئی ہے، انہوں نے ہمیشہ ایک ایسے توانائی نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے جو ملک کو بیرونی انحصار سے بچا سکے اور مقامی وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنائے۔ ان کے بقول کرسٹین فریشیٹ نے بھی اس معاملے پر دوبارہ گفتگو شروع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس سے دونوں صوبوں کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ڈینیئل اسمتھ نے یہ گفتگو کیلگری میں ایک الگ موقع پر ذرائع ابلاغ سے کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ اور کرسٹین فریشیٹ دونوں کینیڈا کا حصہ رہنے کے حامی ہیں، تاہم ان کے صوبوں میں بڑھتی ہوئی خودمختاری کی آوازوں نے بعض مشترکہ مفادات کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ البرٹا اور کیوبیک دونوں اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ صوبوں کو زیادہ اختیارات حاصل ہوں اور ملکی نظام اس انداز میں چلایا جائے جس کا تصور ابتدا میں کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ البرٹا اور کیوبیک کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری قائم کی جا سکتی ہے جو نہ صرف ملک کے انتظامی اور آئینی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مدد دے بلکہ توانائی کی راہداری جیسے بڑے معاشی منصوبوں کو بھی عملی شکل دے سکے۔ مبصرین کے مطابق اگر دونوں صوبے اس معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات پورے کینیڈا کی توانائی پالیسی اور بین الصوبائی تعلقات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔