اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تنازع کے خاتمے کیلئے ایران کو بھیجی گئی تجویز پر تہران کا جواب آج متوقع ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں شروع ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فوج کمزور ہو چکی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ تہران آگے کیا فیصلہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاملات آگے نہ بڑھے تو امریکہ دوبارہ “پراجیکٹ فریڈم” کی جانب جا سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق آئندہ ممکنہ منصوبہ “پراجیکٹ فریڈم پلس” ہوگا، جس میں مزید اقدامات بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان اضافی اقدامات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
اس سے قبل امریکی صدر نے روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے بھی کہا تھا کہ تین روزہ جنگ بندی میں توسیع ممکن ہے اور وہ اس جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر ماہ ہزاروں فوجی مارے جا رہے ہیں اور وہ اس خونریزی کو روکنے کیلئے کوشاں ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران امریکی تجاویز پر غور کر رہا ہے اور جب کسی حتمی نتیجے پر پہنچے گا تو اس کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کی جانب سے جمعرات کی رات کی کارروائی بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی تھی، تاہم ایرانی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران کسی مخصوص ڈیڈ لائن کو اہمیت نہیں دیتا اور اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا۔
ادھر امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک ثالثوں کے ذریعے ایک صفحے پر مشتمل چودہ نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کر رہے ہیں، جس کے تحت ایک ماہ پر محیط مذاکراتی عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سفارتی کوشش کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور جاری جنگی صورتحال کا خاتمہ ہے۔