اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران نے اپنی فوجی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے دشمن کی سرزمین تک کارروائی کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے سینیئر مشیر بریگیڈیئر جنرل رضا نقدی نے کہا ہے کہ نئے فوجی ڈاکٹرائن کے تحت ایرانی فورسز کو ایسی عسکری صلاحیتیں حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن کے ذریعے ضرورت پڑنے پر جنگ کو ایرانی حدود سے باہر مخالف کے علاقے تک لے جایا جاسکے۔
ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضا نقدی نے کہا کہ پاسداران انقلاب کو اپنی عسکری صلاحیت اس سطح تک بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے کہ ایران صرف اپنی سرحدوں کے اندر دفاع تک محدود نہ رہے بلکہ کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں دشمن کی سرزمین تک کارروائی کرنے کی استعداد بھی رکھتا ہو۔
دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی
بریگیڈیئر جنرل رضا نقدی نے کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ایران کی نئی دفاعی حکمت عملی میں طویل فاصلے تک کارروائی کی صلاحیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایران کا امریکا سے جنگ میں اہم فوجی تجربہ حاصل کرنے کا دعویٰ، امریکی فوج کو پہلے سے کمزور قرار دے دیا
ان کے مطابق پاسداران انقلاب کو اس مقصد کے لیے مکمل تیاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اگر ایران کو خطرے کا سامنا ہو تو وہ صرف اپنی سرزمین کے دفاع تک محدود نہ رہے بلکہ مخالف کے علاقے میں بھی کارروائی کرسکے۔
ایرانی عہدیدار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور فوجی مقابلہ آرائی پہلے ہی شدید نوعیت اختیار کرچکی ہے۔
دشمن کی سرزمین تک جنگ
رضا نقدی نے واضح کیا کہ نئے فوجی ڈاکٹرائن کا مقصد ایرانی دفاعی صلاحیت کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنا ہےؒ ایران ایسی پوزیشن حاصل کرنا چاہتا ہے جہاں ممکنہ جنگ کی صورت میں اس کے پاس دشمن کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ضروری فوجی صلاحیت موجود ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کو اسی تصور کے تحت اپنی جنگی تیاری اور عسکری صلاحیت میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی دفاعی پالیسی میں صرف سرحدی دفاع کے بجائے ممکنہ حملے کے جواب میں دشمن کے علاقے تک کارروائی کرنے کی صلاحیت کو بھی اہمیت دے رہا ہے۔
امریکا پر تنقید
ایرانی جنرل نے امریکا اور ایران کے دفاعی بجٹ کا تقابل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا کا فوجی بجٹ ایران کے دفاعی بجٹ سے تقریباً 100 گنا زیادہ ہے۔
تاہم ان کے مطابق حالیہ تنازع کے دوران امریکی برتری کے باوجود ایران نے اپنے دفاعی اہداف حاصل کیے اور دشمن کے تمام 14 اہداف ناکامی سے دوچار ہوئے۔
رضا نقدی نے اپنے دعوے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ان کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت اپنی فوجی صلاحیتوں کو امریکا کی بڑی دفاعی طاقت کے مقابلے میں مؤثر قرار دے رہی ہے۔
پاسداران انقلاب کا کردار
پاسداران انقلاب ایران کی اہم ترین فوجی قوتوں میں شمار ہوتا ہے اور ملکی دفاعی حکمت عملی میں اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
ایران کی جانب سے نئے ڈاکٹرائن میں پاسداران انقلاب کی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران مستقبل کے ممکنہ تنازعات میں اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع رکھنا چاہتا ہے۔
ایرانی حکام طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ملک کی دفاعی صلاحیت کا مقصد بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے، تاہم تازہ بیان میں دشمن کی سرزمین تک کارروائی کی صلاحیت پر خاص زور دیا گیا ہے۔
مخصوص ملک کا نام نہیں لیا
بریگیڈیئر جنرل رضا نقدی نے اپنے بیان میں کسی مخصوص ملک کو ممکنہ ہدف قرار نہیں دیا۔ انہوں نے صرف ایران کی مجموعی فوجی حکمت عملی اور پاسداران انقلاب کی مطلوبہ صلاحیتوں پر بات کی۔
اس کے باوجود ان کا بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ عرصے میں براہ راست فوجی کشیدگی اور ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔
ممکنہ جنگ کی تیاری
ایرانی عہدیدار کے مطابق نئے ڈاکٹرائن کے تحت ایران کو ایسی فوجی پوزیشن حاصل کرنی ہوگی جہاں کسی بھی ممکنہ تنازع کی صورت میں اس کے پاس مؤثر جواب دینے کی صلاحیت موجود ہو۔
یہ بھی پڑھیں :ایران کا امریکا سے جنگ میں اہم فوجی تجربہ حاصل کرنے کا دعویٰ، امریکی فوج کو پہلے سے کمزور قرار دے دیا
اس حکمت عملی میں صرف دفاعی اقدامات کے بجائے جوابی کارروائی کو بھی اہم سمجھا جارہا ہے۔ یعنی اگر ایران پر حملہ کیا جاتا ہے تو تہران کے پاس مخالف کے علاقے میں کارروائی کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔
یہ پالیسی ایران کی مجموعی دفاعی سوچ میں ایک اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس میں جنگ کو صرف اپنی سرحدوں تک محدود رکھنے کے بجائے ضرورت پڑنے پر اسے مخالف کے علاقے تک لے جانے کی صلاحیت کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔
خطے پر اثرات
ایران کی جانب سے جارحانہ فوجی صلاحیتوں میں اضافے کا عندیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی متعدد تنازعات اور سکیورٹی بحرانوں کی زد میں ہے۔
تجزیہ کاروں کے لیے بھی ایرانی فوجی ڈاکٹرائن میں یہ تبدیلی اہم ہوسکتی ہے، کیونکہ طویل فاصلے تک کارروائی کی صلاحیت میں اضافہ خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ تنازعات کی نوعیت پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
ایران کی جانب سے میزائل، ڈرونز اور دیگر جدید فوجی صلاحیتوں پر مسلسل توجہ کے تناظر میں دشمن کی سرزمین تک کارروائی کی صلاحیت کا اعلان اس کی دفاعی پالیسی کو مزید جارحانہ رخ دینے کی علامت سمجھا جارہا ہے۔
ایران کا واضح پیغام
بریگیڈیئر جنرل رضا نقدی کے بیان کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ایران آئندہ کسی ممکنہ جنگ میں صرف حملہ برداشت کرنے یا اپنی سرحدوں کے دفاع تک محدود رہنے کی پالیسی اختیار نہیں کرنا چاہتا۔
تہران اب ایسی فوجی صلاحیت کا خواہاں ہے جس کے ذریعے ضرورت پڑنے پر مخالف کے علاقے کو بھی اپنی جوابی کارروائی کا حصہ بنایا جاسکے۔
اگر ایران اس نئی حکمت عملی کے مطابق اپنی فوجی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال اور خطے میں مستقبل کے فوجی تنازعات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
