اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں کی توجہ عالمی سطح پر تیل کی طلب میں متوقع کمی اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ و کشیدگی کے ممکنہ معاشی اثرات پر مرکوز ہوگئی ہے۔
مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی سرگرمیوں میں ممکنہ سست روی تیل کی طلب کو متاثر کرسکتی ہے۔ دوسری جانب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع نے عالمی توانائی کی رسد کے حوالے سے نئے خدشات بھی پیدا کردیے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت میں کمی
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 1.29 ڈالر یا 1.5 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد برینٹ خام تیل 87.69 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
برینٹ خام تیل عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کے تعین کے لیے اہم بینچ مارک سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس میں ہونے والی تبدیلی کا اثر دنیا بھر کی توانائی مارکیٹوں پر پڑتا ہے۔
امریکی تیل بھی سستا
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 1.30 ڈالر یا 1.6 فیصد کم ہوکر 81.97 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں بیک وقت کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سرمایہ کار اس وقت تیل کی مستقبل کی طلب اور معاشی صورتحال کے بارے میں محتاط اندازے لگا رہے ہیں۔
طلب میں کمی کا خدشہ
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی طلب کے حوالے سے توقعات میں کمی ہے۔
مختلف اداروں اور مارکیٹ ماہرین نے 2026 کے لیے عالمی تیل کی طلب کے اپنے اندازوں پر نظرثانی کی ہے۔ عالمی معیشت میں ممکنہ سست روی، تجارتی سرگرمیوں میں کمی اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث صنعتی اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
اگر عالمی معیشت کی رفتار توقع سے کم رہی تو صنعت، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں توانائی کی کھپت بھی متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی طلب پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تاحال کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔ دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث عالمی سرمایہ کار مستقبل میں توانائی کی منڈی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کسی بھی اضافے کا براہ راست اثر عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے، جبکہ مذاکرات میں پیش رفت عالمی منڈی کے لیے نسبتاً مثبت اشارہ ثابت ہوسکتی ہے۔
آبنائے ہرمز پر نظریں
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران عالمی تیل مارکیٹ کی نظریں آبنائے ہرمز پر بھی مرکوز ہیں۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیجی خطے سے عالمی منڈیوں تک تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے پہنچتی ہے۔
اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا آمدورفت میں نمایاں کمی عالمی سطح پر تیل کی رسد کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی خدشے کے باعث سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کے لیے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
جنگ نے مارکیٹ کو غیر یقینی میں ڈال دیا
امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے عالمی معیشت کے لیے کئی نئے خطرات پیدا کیے ہیں۔ تنازع طویل ہونے کی صورت میں عالمی تجارت، شپنگ، توانائی کی ترسیل اور سرمایہ کاری پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ایک طرف جنگ کے باعث تیل کی رسد میں ممکنہ رکاوٹ کا خدشہ قیمتوں کو اوپر رکھنے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ دوسری جانب عالمی طلب میں ممکنہ کمی تیل کی قیمتوں پر نیچے کی طرف دباؤ ڈال رہی ہے۔اسی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کا رجحان واضح سمت اختیار نہیں کرپا رہا۔
قیمتوں میں بڑی کمی کیوں رکی؟
اگرچہ عالمی طلب میں کمی کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتیں نیچے آئی ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے قیمتوں میں مزید بڑی کمی کو کسی حد تک محدود رکھا ہے۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوا یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں رسد کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ایسی صورتحال میں طلب کم ہونے کے باوجود سپلائی میں کمی تیل کی قیمتوں کو دوبارہ تیزی سے اوپر لے جاسکتی ہے۔
عالمی معیشت پر اثرات
تیل کی قیمتوں میں کمی کا عالمی معیشت کے لیے کچھ پہلوؤں سے مثبت اثر بھی ہوسکتا ہے۔ اگر خام تیل مسلسل سستا رہتا ہے تو ایندھن اور توانائی کی لاگت میں کمی آسکتی ہے، جس سے بعض ممالک میں مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم اگر قیمتوں میں کمی عالمی طلب اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں کمزوری کی وجہ سے ہو تو یہ عالمی معیشت کے لیے تشویش کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔
آئندہ کیا ہوگا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں کا رخ کئی اہم عوامل سے طے ہوگا۔ ان میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت، مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال، آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل، عالمی معاشی سرگرمیوں اور تیل کی طلب و رسد سے متعلق نئے اعداد و شمار شامل ہیں۔
اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے اور خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو رسد سے متعلق خدشات میں کمی آسکتی ہے۔ اس کے برعکس جنگ میں مزید شدت یا آبنائے ہرمز میں کسی بڑی رکاوٹ کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی آنے کا امکان موجود ہے۔
فی الحال عالمی تیل مارکیٹ میں طلب میں کمی اور رسد میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں، جس کے باعث آنے والے دن عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جارہے ہیں۔
