اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ماجد ستی قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم فرخ کھوکھر سمیت تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صافی نے فیصلہ سنایا، جس کے بعد مرکزی ملزم فرخ کھوکھر کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرکے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔
عدالت نے سخت سیکیورٹی میں فرخ کھوکھر کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا۔ سزا پانے والوں میں فرخ تاجی کھوکھر، امیر حمزہ اور حیدر نواز شامل ہیں۔ عدالت نے تینوں ملزمان کو عمر قید کے ساتھ فی کس 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی، جبکہ تمام ملزمان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
عدالت نے ماجد ستی قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا ہے۔فیصلے کے بعد فرخ کھوکھر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں غلط سزا دی گئی ہے، وہ وقوعہ کے وقت جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے وکلا کو فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایت کر دی ہے اور فیصلے کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان پر 23 اگست 2022 کو ماجد ستی کو بے دردی سے قتل کرنے کا الزام تھا، جس کا مقدمہ تھانہ صادق آباد میں درج کیا گیا تھا۔
فرخ کھوکھر پہلے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ تھے، بعد ازاں مستعفی ہو کر جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) میں شامل ہو گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق مقتول ماجد ستی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تھا اور انہیں مبینہ طور پر پلاٹ پر قبضہ روکنے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔ فرخ کھوکھر، مرحوم تاجی کھوکھر کے بیٹے ہیں، جبکہ تاجی کھوکھر کا شمار ماضی میں صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔