اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں 21000 افراد کے لیے مجوزہ نئے رہائشی علاقے “اوکویمن منیسنگ جزیرہ” کے منصوبے نے شہری انتظامیہ میں ایک اہم مرحلہ عبور کرلیا، تاہم قریبی ہوائی اڈے کی ممکنہ توسیع اس منصوبے کے لیے نئی مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
اوکویمن منیسنگ، جس کا مطلب “سیاہ چیری کے درختوں کی جگہ” بتایا جاتا ہے، دریائے ڈان کے دہانے پر سیلاب سے تحفظ کے منصوبے کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ اس جزیرے کو پہلے “ویلیئر جزیرہ” کہا جاتا تھا۔
مجوزہ منصوبے کے خاکوں میں جدید طرز کی سڑکیں، سرسبز پارک، پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص راستے، رہائشی عمارتیں اور ایک مرکزی ایسی شاہراہ شامل ہے جہاں موٹر گاڑیوں کی آمدورفت نہیں ہوگی۔
دو ہزار چوبیس میں پیش کیے گئے ابتدائی منصوبے کے مقابلے میں تازہ منصوبے میں آبادی کی گنجائش مزید بڑھائی گئی ہے، جس کے تحت تین سو سے آٹھ سو تک اضافی کم لاگت رہائشی مکانات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر بنیادی سہولتوں میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔
شہری منصوبہ ساز بلیئر اسکورجی کے مطابق نیا منصوبہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر، جدید اور شہری ماحول سے ہم آہنگ محسوس ہوتا ہے۔ ان کے بقول ایسا لگتا ہے کہ منصوبہ سازوں نے گزشتہ تجاویز پر ہونے والی تنقید کو سنجیدگی سے مدنظر رکھا ہے، جس کے باعث اب یہ علاقہ اپنی الگ شناخت رکھتا دکھائی دیتا ہے۔
تاہم سب سے بڑا غیر یقینی پہلو جزیرے کے سامنے واقع بلی بشپ ہوائی اڈہ ہے۔ صوبائی حکومت حال ہی میں ٹورنٹو شہر سے زمین اپنے قبضے میں لے چکی ہے تاکہ ہوائی اڈے کو وسعت دی جاسکے اور بڑے مسافر طیاروں کی آمدورفت ممکن بنائی جاسکے۔
موجودہ تعمیراتی منصوبہ ان چھوٹے پروپیلر طیاروں کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے جو اس وقت جزیرے کے ہوائی اڈے پر استعمال ہوتے ہیں۔
ٹورنٹو کے چیف منصوبہ ساز جیسن تھورن کے مطابق جزیرے پر بلند عمارتوں کی سمتوں اور مقامات کا تعین موجودہ فضائی راستوں کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے، اس لیے اگر پروازوں کے راستے تبدیل ہوتے ہیں تو اس سے عمارتوں کی اونچائی اور آبادی کی تقسیم بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
چونکہ ابھی تک ہوائی اڈے کی توسیع کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، اس لیے جزیرے کے تعمیراتی منصوبے کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔
بلیئر اسکورجی نے خدشہ ظاہر کیا کہ منصوبہ عملی تعمیر کے مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہے، لیکن اب صوبائی حکومت ہوائی اڈے کو بڑے طیاروں کے لیے کھول کر ایک غیر ضروری رکاوٹ کھڑی کرسکتی ہے۔
رہائشی منصوبہ اب ٹورنٹو سٹی ہال کی رہائش اور منصوبہ بندی کمیٹی سے منظوری حاصل کرچکا ہے اور اب اسے مکمل شہری کونسل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ اگر منصوبہ طے شدہ انداز میں آگے بڑھتا رہا تو دو ہزار اکتیس تک لوگ اس نئے علاقے میں رہائش اختیار کرنا شروع کردیں گے۔