البرٹا میں اسکولوں کے پرچم اور قومی ترانے سے متعلق نئے قوانین مؤخر

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا کی حکومت نے اسکولوں میں پرچموں کی نمائش اور ہفتہ وار قومی ترانہ بجانے سے متعلق نئے قوانین کے نفاذ میں تاخیر کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قوانین یکم ستمبر سے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ نافذ ہونا تھے، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قواعد پر عمل درآمد کے لیے مزید تیاری اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی ضرورت ہے۔

صوبائی حکومت نے اسکولوں میں پرچموں کی نمائش کے علاوہ ایک اور اہم تبدیلی بھی مؤخر کردی ہے، جس کے تحت تعلیم اور چائلڈ کیئر کے وزیر ڈیمیٹریوس نکولائیڈز کو سرکاری اسکولوں کے نام رکھنے یا تبدیل کرنے کا اختیار ملنا تھا۔ اس وقت یہ اختیار اسکول بورڈز کے منتخب ٹرسٹیز کے پاس ہے۔

حکومت کا مؤثر عمل درآمد کا مؤقف

تعلیم اور چائلڈ کیئر کے وزیر کے پریس سیکریٹری نے بدھ کو ایک ای میل کے ذریعے اس تاخیر کی تصدیق کی۔ جمعرات کی رات وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت 2026 کے اس قانون پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے جس کا مقصد کلاس رومز سے سیاست اور نظریاتی اثرات کو ختم کرنا اور البرٹا کے تعلیمی قانون میں تبدیلیاں کرنا ہے۔

وزارت کے مطابق حکومت قوانین کے نفاذ کے لیے ’’سوچا سمجھا اور متوازن طریقہ‘‘ اختیار کررہی ہے تاکہ نئی تبدیلیاں مؤثر انداز میں نافذ ہوسکیں اور تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کو نئے تقاضوں کے مطابق منتقلی کے لیے ضروری تعاون حاصل ہو۔

حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ جاری رکھے گی، نئے ٹائم لائنز سے آگاہ کرے گی اور قوانین پر عمل درآمد کے لیے ضروری رہنمائی اور وسائل فراہم کرے گی۔

صرف مخصوص پرچموں کی اجازت

نئے قانون کے حوالے سے سب سے زیادہ بحث اسکولوں میں پرچموں کی نمائش کے بارے میں ہورہی ہے۔ قانون کے تحت اسکولوں کی عمارتوں اور احاطوں میں صرف کینیڈا اور البرٹا کے پرچم کی اجازت دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر جیسن شِلنگ کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر اساتذہ کو متعدد خدشات ہیں۔ ان کے مطابق سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اسکولوں میں پرائیڈ فلیگ، میٹس فلیگ اور فرانکوفون کمیونٹی سے متعلق پرچم اب بھی کلاس رومز میں لگائے جاسکیں گے یا نہیں۔

شِلنگ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے اس معاملے پر مزید وقت کا استعمال کرتے ہوئے عوام، اساتذہ، والدین اور دیگر متعلقہ فریقوں سے وسیع پیمانے پر مشاورت کرنی چاہیے۔

فرانکو البرٹن پرچم کو استثنا

البرٹا میں فرانسیسی زبان بولنے والی کمیونٹی کو آئینی طور پر فرانسیسی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ اسکولوں میں فرانکو البرٹن پرچم کو بھی لہرانے کی اجازت ہوگی۔

تاہم دیگر علامتی پرچموں کے حوالے سے صورتحال اب بھی بحث کا موضوع ہے۔ اساتذہ اور سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ اسکول صرف حکومتی یا قومی شناخت کی جگہ نہیں بلکہ مختلف ثقافتوں، زبانوں اور برادریوں کی نمائندگی کرنے والے مقامات بھی ہیں۔

قانون میں کئی دیگر تبدیلیاں بھی شامل

متنازع پرچم پالیسی کے علاوہ نئے قانون میں البرٹا کے تعلیمی نظام سے متعلق کئی اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔ان میں طلبہ کے لیے نیا ضابطہ اخلاق متعارف کرانا شامل ہے، جس کے تحت اسکولوں میں تشدد کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ وزیر تعلیم کو اسکول سپرنٹنڈنٹس کے معاہدوں کی منظوری دینے کا اختیار دینے، اسکول بورڈز کی ترجیحات مقرر کرنے اور صوبائی امتحانات کو ڈیجیٹل فارمیٹ میں منتقل کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :البرٹا کی علیحدگی کی تحریک کو بڑا دھچکا، نسل پرستانہ جملے پر اہم رکن مستعفی

نئے قانون کے تحت اساتذہ کو متنازع اور تقسیم پیدا کرنے والے موضوعات پڑھاتے ہوئے مختلف نقطہ نظر پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس تبدیلی سے طلبہ کو مختلف آرا کو سمجھنے اور متوازن انداز میں موضوعات کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومت کو غیر استعمال شدہ اسکول املاک کو دوبارہ مختص کرنے کا اختیار دینے سمیت دیگر انتظامی تبدیلیاں بھی قانون کا حصہ ہیں۔

اسکول بورڈز کے اختیارات پر بھی تشویش

قانون کی بعض شقوں پر البرٹا کے موجودہ اور سابق اسکول ٹرسٹیز پہلے ہی خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی قانون سازی سے اسکول بورڈز کے پہلے سے محدود اختیارات مزید کم ہوسکتے ہیں۔

بعض ٹرسٹیز کا خیال ہے کہ یہ اقدامات مستقبل میں مقامی سطح پر منتخب اسکول بورڈز کے کردار کو کم کرنے کی جانب قدم ہوسکتے ہیں۔ تاہم وزیر تعلیم نکولائیڈز واضح کرچکے ہیں کہ حکومت کا البرٹا کے اسکول بورڈز کو ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

اپوزیشن نے پرچموں کو شناخت کی علامت قرار دے دیا

البرٹا این ڈی پی کی تعلیم سے متعلق ناقد آمانڈا چیپ مین نے حکومت کی پرچم پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پرچم محض کسی خاص دن کو منانے کی علامت نہیں ہوتے بلکہ یہ طلبہ کو یہ احساس دلانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں کہ وہ اسکول اور معاشرے کا حصہ ہیں۔

ان کے مطابق فرسٹ نیشنز، میٹس، میٹس سیٹلمنٹس، فرانکوفون کمیونٹیز اور دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والے پرچموں پر پابندی یا ان کی نمائش کے لیے سخت وقت کی حد مقرر کرنا متعلقہ کمیونٹیز کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔

چیپ مین نے کہا کہ پرچم ایک چھوٹی سی علامت ضرور ہے، لیکن یہ بچوں کو اپنے ہم جماعتوں کی ثقافت، پس منظر اور شناخت کے بارے میں جاننے اور ایک دوسرے سے جڑنے میں مدد دے سکتی ہے۔

اسکولوں میں اصل مسائل کیا ہیں؟

چیپ مین کے مطابق ان کے حلقے میں والدین، طلبہ اور اساتذہ اسکولوں میں پرچموں یا سیاسی علامتوں سے زیادہ دیگر بنیادی مسائل کے بارے میں تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

ان مسائل میں کلاس رومز میں عملے کی کمی، اسکولوں میں بڑھتا ہوا رش، اضافی ضروریات رکھنے والے طلبہ کے لیے خصوصی عملے کی کمی اور ایڈمنٹن و کیلگری کے علاقوں میں نئے اسکولوں کی تعمیر کے لیے طویل انتظار شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عوام کی ترجیحات اور حکومت کی جانب سے جن معاملات پر توجہ دی جارہی ہے، ان دونوں میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

اساتذہ کو مزید خدشات لاحق

اساتذہ کی نمائندہ تنظیم کے صدر جیسن شِلنگ نے کہا کہ اساتذہ کو اس بات کی بھی فکر ہے کہ حکومت کی جانب سے وعدہ کیے گئے نئے ملازمین اور پیچیدگی سے نمٹنے والی ٹیمیں موسم خزاں میں اسکول کھلنے تک دستیاب ہوں گی یا نہیں۔

اساتذہ ایک نئے اور متنازع نصاب کے حوالے سے بھی تحفظات رکھتے ہیں، جسے اب جونیئر ہائی اسکول کی سطح پر بعض مضامین میں آزمایا جائے گا۔

شِلنگ نے سوال اٹھایا کہ اساتذہ کو متنازع موضوعات پر مختلف نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ محکمہ تعلیم پہلے ہی کلاس روم میں حساس اور متنازع موضوعات سے نمٹنے کے لیے رہنما اصول جاری کرچکا ہے۔

قومی ترانہ بھی ہفتہ وار لازمی قرار

نئے قواعد میں البرٹا کے اسکولوں میں کینیڈا کا قومی ترانہ ہفتے میں ایک مرتبہ بجانے کی شرط بھی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ میں قومی شناخت اور کینیڈا سے وابستگی کے احساس کو فروغ دینا قرار دیا جارہا ہے۔

تاہم پرچموں، قومی ترانے اور کلاس روم میں مختلف نظریات کی تدریس سے متعلق تبدیلیاں البرٹا میں تعلیم اور سیاسی شناخت کے درمیان تعلق پر نئی بحث کو جنم دے رہی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ قوانین کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے، جبکہ اساتذہ اور اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس دوران زیادہ وسیع مشاورت کرے۔ یوں یکم ستمبر سے متوقع کئی اہم تعلیمی تبدیلیوں کا نفاذ فی الحال تاخیر کا شکار ہوگیا ہے، تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ قانون میں کی گئی تبدیلیوں سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

ہمیں فالو کریں